سورة آل عمران - آیت 164

لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اللہ کا مومنوں پر یقیناً یہ احسان (112) ہے کہ اس نے ان کے لیے انہی میں سے ایک رسول بھیجا، جو اس کی آیتوں کی ان لوگوں پر تلاوت کرتے ہیں، اور انہیں پاک کرتے ہیں، اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں، اور اس سے پہلے وہ لوگ کھلی گمراہی میں تھے

تفسیر السعدی - عبدالرحمٰن بن ناصر السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ احسان جو اس نے اپنے بندوں پر کیا ہے اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے، بلکہ اصل نعمت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرما کر ان پر بہت بڑا احسان کیا۔ جس کے ذریعے سے اس نے ان کو گمراہی کے گڑھے سے بچایا اور انہیں ہلاکت سے محفوظ کیا۔ پس فرمایا : ﴿ لَقَدْ مَنَّ اللَّـهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ﴾” یقیناً اللہ نے مومنوں پر احسان فرمایا، جو بھیجا ان میں رسول، انہی میں سے“ یعنی وہ اس کا حسب و نسب، اس کے احوال اور اس کی زبان جانتے ہیں۔ وہ ان کی اپنی قوم اور ان کے اپنے قبیلے سے تعلق رکھتا ہے وہ ان کے لیے خیر خواہی کے جذبات رکھتا اور ان پر بہت شفیق اور مہربان ہے۔ ﴿ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ﴾یعنی وہ ان کو ان آیات کے الفاظ اور معانی سکھاتا ہے﴿وَيُزَكِّيهِمْ﴾ یعنی وہ ان کو شرک، گناہ، رذائل اور دیگر تمام برے اخلاق و اطوار سے پاک کرتا ہے ﴿وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ﴾” اور انہیں کتاب سکھاتا ہے“ یا تو اس سے مراد جنس کتاب ہے جو کہ قرآن مجید ہے تب اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ ﴾ سے مراد آیات کو نیہ ہوں گی۔ یا کتاب سے مراد ” کتابت‘‘ ہے تب اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کتاب اور کتابت کی تعلیم دے کر ان پر بڑا احسان کیا ہے، جس کے ذریعے سے علوم حاصل کئے جاتے ہیں اور ان کو محفوظ کیا جاتا ہے۔ ﴿وَالْحِكْمَةَ ﴾ہاں حکمت سے مراد سنت ہے جو کہ قرآن مجید کی مانند ہے نیز اس سے مراد تمام اشیاء کو اپنے اپنے مقام پر رکھنا اور اسرار شریعت کی معرفت بھی ہے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے تعلیم احکام، تنفیذ احکام کے ذرائع اور ان احکام کے فوائد و ثمرات کے حصول کے ذرائع کو جمع کردیا۔ پس وہ ان عظیم امور کی بنا پر تمام لوگوں سے آگے نکل گئے اور ان کا شمار علمائے ربانی میں ہونے لگا۔ ﴿وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ﴾ یعنی اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل ﴿لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴾ ” وہ کھلی گمراہی میں تھے“ اور اپنے رب تک پہنچانے والے راستے کی معرفت سے محروم تھے اور نہ انہیں اس طریق کا علم تھا جو ان کا تزکیہ نفس کر کے ان کو پاک کرے بلکہ وہ تو اس راستے پر گامزن تھے جو ان کی جہالت کو مزین کرتا تھا۔ خواہ یہ جہالت تمام جہانوں کی عقل کے متناقض ہی کیوں نہ ہو۔