سورة ص - آیت 9

أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

یا آپ کے غالب اور عطا کرنے والے رب کی رحمت کے خزانے (٤) ان کے پاس ہیں

تفسیر السعدی - عبدالرحمٰن بن ناصر السعدی

﴿أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ﴾ ” کیا ان کے پاس تیرے زبردست فیاض رب کی رحمت کے خزانے ہیں“ کہ وہ جس کو چاہیں عطا کریں اور جس کو چاہیں اس رحمت سے محروم کردیں؟ کیونکہ ان کا قول ہے : ﴿ أَأُنزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِن بَيْنِنَا ﴾ ” کیا ہم میں سے صرف یہی شخص ہے، جس پر ذکر نازل کردیا گیا“ یعنی یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے جو ان کے قبضہ قدرت میں نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر قرآن کے نزول کے معاملے میں سختی کرسکیں۔