سورة فاطر - آیت 22

وَمَا يَسْتَوِي الْأَحْيَاءُ وَلَا الْأَمْوَاتُ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُسْمِعُ مَن يَشَاءُ ۖ وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِي الْقُبُورِ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور نہ زندہ اور مردہ لوگ برابر ہیں، بے شک اللہ جسے چاہتا ہے سناتا ہے، اور جو لوگ قبروں میں مدفون ہیں انہیں آپ نہیں سنا سکتے ہیں

تفسیر السعدی - عبدالرحمٰن بن ناصر السعدی

﴿ إِنَّ اللّٰـهَ يُسْمِعُ مَن يَشَاءُ﴾ ”بے شک اللہ جس کو چاہتا ہے سنوا دیتا ہے۔“ یعنی جسے چاہتا ہے فہم و قبول کی سماعت عطا کرتا ہے کیونکہ وہی راہ دکھانے والا اور توفیق عطا کرنے والا ہے۔ ﴿وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِي الْقُبُورِ﴾ ” اور آپ ان کو جو قبروں میں پڑے ہیں نہیں سنا سکتے۔“ یعنی جن کے دل مردہ ہوچکے ہیں آپ ان کو نہیں سنا سکتے، جس طرح آپ کا قبر کے مردوں کو بلانا ان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا، اسی طرح اعراض کرنے والے معاند کو بھی آپ کو بلانا کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ آپ کا کام صرف ڈرانا اور ان تک اس حکم کو پہنچا دینا ہے جس کے ساتھ آپ کو بھیجا گیا ہے، خواہ وہ اس کو قبول کریں یا نہ کریں۔