سورة الشعراء - آیت 102

فَلَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

کاش ہم دوبارہ دنیا میں بھیج (٢٨) دیئے جاتے تو ایمان لے آتے۔

تفسیر السعدی - عبدالرحمٰن بن ناصر السعدی

وہ کہیں گے :﴿ فَلَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً﴾ ” اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔“ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿فَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ﴾ ” تو ہم مومنون میں سے ہوجاتے۔“ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہوگی ان کے قید خانے کے دروازے بند کردئیے جائیں گے۔