سورة النور - آیت 47

وَيَقُولُونَ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالرَّسُولِ وَأَطَعْنَا ثُمَّ يَتَوَلَّىٰ فَرِيقٌ مِّنْهُم مِّن بَعْدِ ذَٰلِكَ ۚ وَمَا أُولَٰئِكَ بِالْمُؤْمِنِينَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور (منافقین) کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور رسول پر ایمان (٢٨) لے آئے ہیں اور ہم نے اطاعت قبول کرلی ہے پھر اس کے بعد ان میں کا ایک گروہ منہ پھیر لیتا ہے اور وہ لوگ کبھی ایمان والے تھے ہی نہیں۔

تفسیر السعدی - عبدالرحمٰن بن ناصر السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ ان ظالموں کی حالت بیان کرتا ہے جن کے دلوں میں بیماری ضعف ایمان، نفاق شک و ریب اور ضعف علم ہے جو اپنی زبان سے ایمان باللہ اور اطاعت کے التزام کا دعوی ٰ کرتے ہیں مگر وہ اپنی بات پر قائم نہیں رہتے اور ان میں سے ایک گروہ اطاعت سے بہت زیادہ روگردانی کرتا ہے۔ فرمایا : ﴿ وَّهُم مُّعْرِضُونَ ﴾ ( الانفال :8؍23)” اور وہ اعراض کرنے والے ہیں۔“ کیونکہ روگردانی کرنے والے کی کبھی کبھی اس امر کی طرف رجوع کی نیت ہوتی ہے جس سے اس نے روگردانی کی تھی مگر یہ ظالم اس کی طرف التفات اور اس کی طرف رجوع کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا اور اس حالت کو آپ ایسے بہت سے لوگوں کے احوال کے مطابق پائیں گے جو ایمان اور اطاعت کا دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ وہ ضعیف الایمان ہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ وہ بہت سی عبادات کو قائم نہیں کرتے خاص طور پر ایسی عبادات جو بہت سے نفوس پر گراں گزرتی ہیں۔ مثلاً نفقات واجبہ و مستحبہ اور جہاد فی سبیل اللہ وغیرہ۔