سورة البقرة - آیت 108

أَمْ تُرِيدُونَ أَن تَسْأَلُوا رَسُولَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوسَىٰ مِن قَبْلُ ۗ وَمَن يَتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے رسول اسے اسی طرح سوالات (١٦١) کرتے رہو، جیسے اس سے قبل موسیٰ (علیہ السلام) سے سوالات کیے جاتے رہے، اور جس نے ایمان کے بدلے کفر کو قبول کرلیا وہ سیدھی راہ سے بھٹک گیا

تفسیر السعدی - عبدالرحمٰن بن ناصر السعدی

اللہ تعالیٰ اہل ایمان یا یہود کو منع کرتا ہے کہ وہ اپنے رسول سے اس طرح سوال کریں ﴿کَمَا سُئِلَ مُوْسٰی مِنْ قَبْلُ ۭ ﴾” جس طرح اس سے پہلے (حضرت) موسیٰ علیہ السلام سے سوال کیا گیا۔“ اس سے مراد وہ سوالات ہیں جو بال کی کھال اتارنے اور اعتراض کی خاطر کیے جاتے ہیں۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ يَسْأَلُكَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَن تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتَابًا مِّنَ السَّمَاءِ ۚ فَقَدْ سَأَلُوا مُوسَىٰ أَكْبَرَ مِن ذَٰلِكَ فَقَالُوا أَرِنَا اللَّـهَ جَهْرَةً﴾ (النساء : 4؍ 153) ” اہل کتاب تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو ان پر آسمان سے کوئی لکھی ہوئی کتاب اتارلا۔ یہ موسیٰ علیہ السلام سے اس سے بھی بڑی بات کا مطالبہ کرچکے ہیں، کہتے تھے کہ ہمیں اللہ ان ظاہری آنکھوں سے دکھا“۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِن تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ﴾ (المائدہ : 5؍ 101) ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کیا کرو کہ اگر تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں بری لگیں گی۔“ لہٰذا اس قسم کے (مذموم) سوالات سے منع کیا گیا ہے۔ رہا رشد و ہدایت اور تحصیل علم کے لیے سوال کرنا تو یہ محمود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس طرح کے سوالات کرنے کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ ﴿فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ (النحل : 16؍ 43) ” اگر تم نہیں جانتے تو ان لوگوں سے پوچھ لو جو اہل کتاب ہیں“ اور اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے سوالات کو برقرار رکھا ہے۔ فرمایا :﴿ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ﴾ (البقرہ: 2؍ 219) ” وہ تجھ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔“ نیز فرمایا : ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَىٰ﴾ (البقرہ : 2؍ 220) ” اور تجھ سے یتیموں کے بارے میں پوچھتے ہیں“ اور اس قسم کی دیگر آیات۔ چونکہ ممنوعہ سوالات مذموم ہوتے ہیں اس لیے بعض دفعہ سوال پوچھنے والے کو کفر کی حدود میں داخل کردیتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ﴿’ وَمَنْ یَّتَـبَدَّلِ الْکُفْرَ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاۗءَ السَّبِیْلِ﴾’’جس نے ایمان کے بدلے کفر لے لیا پس اس نے سیدھا راستہ گم کردیا۔ “