سورة الملك - آیت 30

قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَصْبَحَ مَاؤُكُمْ غَوْرًا فَمَن يَأْتِيكُم بِمَاءٍ مَّعِينٍ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی

آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہارا پانی (18) زمین کی تہ میں چلا جائے، تو کون ہے جو تمہارے لئے صاف نتھرا پانی لائے

تفسیر مکہ - حافظ صلاح الدین یوسف حافظ

* غَوْرًا کے معنی ہیں خشک ہو جانا یا اتنی گہرائی میں چلا جانا کہ وہاں سے پانی نکالنا ناممکن ہو۔ یعنی اگر اللہ تعالٰی پانی خشک فرما دے کہ اس کا وجود ہی ختم ہو جائے یا اتنی گہرائی میں کر دے کہ ساری مشینیں پانی نکالنے میں ناکام ہو جائیں تو بتلاؤ! پھر کون ہے جو تمہیں جاری، صاف اور نتھرا ہوا پانی مہیا کر دے؟ یعنی کوئی نہیں ہے۔ یہ اللہ کی مہربانی ہے کہ تمہاری معصیتوں کے باوجود وہ تمہیں پانی سے بھی محروم نہیں فرماتا۔