سورة النسآء - آیت 20

وَإِنْ أَرَدتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا ۚ أَتَأْخُذُونَهُ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور اگر تم ایک بیوی کے بدلے دوسری بیوی (28) کرنا چاہو، اور ان میں سے ایک کو مال کثیر دیا تھا، تو اس میں سے کچھ واپس نہ لو، کیا تم (وہ مال) اس پر بہتان باندھ کر اور صریح گناہ کر کے لینا چاہتے ہو

تفسیر احسن البیان - حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ

1- خود طلاق دینے کی صورت میں حق مہر واپس لینے سے نہایت سختی کے ساتھ روک دیا گیا ہے۔ قنطار خزانے اور مال کثیر کو کہتے ہیں یعنی کتنابھی حق مہر دیا ہو واپس نہیں لے سکتے۔ اگر ایسا کرو گے تو یہ ظلم (بہتان) اور کھلا گناہ ہوگا۔