سورة فصلت - آیت 35

وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور یہ صفت صرف ان لوگوں میں پیدا ہوتی ہے جو صبر کرتے ہیں، اور یہ صفت صرف بڑے نصیب والے کو حاصل ہوتی ہے

تفسیر احسن البیان - حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ

1- یعنی برائی کو بھلائی کےساتھ ٹالنے کی خوبی اگرچہ نہایت مفیداور بڑی ثمر آور ہے لیکن اس پر عمل وہی کرسکیں گے جو صابر ہوں گے غصے کو پی جانے والے اور ناپسندیدہ باتوں کو برداشت کرنے والے۔ 2- حَظٍّ عَظِيمٍ (بڑا نصیب) سے مراد جنت ہے یعنی مذکورہ خوبیاں اس کو حاصل ہوتی ہیں جو بڑے نصیب والا ہوتا ہے، یعنی جنتی جس کے لیے جنت میں جانا لکھ دیا گیا ہو۔