سورة يس - آیت 30

يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ ۚ مَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

افسوس ہے ایسے بندوں (١٦) پر کہ جب بھی ان کے پاس کوئی رسول آیا تو انہوں نے اس کا مذاق اڑایا

تفسیر احسن البیان - حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ

1- حسرت وندامت کا یہ اظہار خود اپنے نفسوں پر، قیامت والے دن، عذاب دیکھنے کے بعد کریں گے کہ کاش انہوں نے اللہ کے بارے میں کوتاہی نہ کی ہوتی یا اللہ تعالیٰ بندوں کے رویے پر افسوس کر رہا ہے کہ ان کے پاس جب بھی کوئی رسول آیا انہوں نے اس کے ساتھ استہزا ہی کیا۔