سورة الأنبياء - آیت 15

فَمَا زَالَت تِّلْكَ دَعْوَاهُمْ حَتَّىٰ جَعَلْنَاهُمْ حَصِيدًا خَامِدِينَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی

پس وہ یہی پکارتے رہے یہاں تک کہ ہم نے انہیں کٹی ہوئی فصل اور بجھی ہوئی آگ کی مانند بنا دیا۔

تفسیر مکہ - حافظ صلاح الدین یوسف حافظ

* یعنی جب تک زندگی کے آثار ان کے اندر رہے، وہ اعتراف ظلم کرتے رہے۔ ** حَصِیْد کٹی ہوئی کھیتی کو اور خُمُودٌ آگ کے بجھ جانے کو کہتے ہیں۔ یعنی بالآخر وہ کٹی ہوئی کھیتی اور بھجی ہوئی آگ کی طرح راکھ کا ڈھیر ہوگئے، کوئی تاب وتوانائی اور حس وحرکت ان کے اندر نہ رہی۔ *