سورة التوبہ - آیت 61

وَمِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ وَيَقُولُونَ هُوَ أُذُنٌ ۚ قُلْ أُذُنُ خَيْرٍ لَّكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةٌ لِّلَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ ۚ وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی

اور ان منافقین میں بعض ایسے ہیں جو نبی کو ایذا پہنچاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ کان کا ہلکا (47) ہے (ہر ایک کی سن لیتا ہے) آپ کہئے کہ وہ تمہارے لئے خیر کی باتیں سنتا ہے، اللہ پر یقین رکھتا ہے، اور مومنوں کی باتوں پر بھروسہ کرتا ہے، اور تم میں سے ایمان والوں کے لئے وہ سراپا رحمت ہے، اور جو لوگ اللہ کے رسول کو ایذا پہنچاتے ہیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے

تفسیر مکہ - حافظ صلاح الدین یوسف حافظ

* یہاں سے پھر منافقین کا ذکر ہو رہا ہے نبی (ﷺ) کے خلاف ایک ہرزہ سرائی انہوں نے یہ کی کہ یہ کان کا کچا (ہلکا) ہے، مطلب ہے کہ یہ ہر ایک بات سن لیتا ہے یہ گویا آپ (ﷺ) کے حلم و کرم اور عفو وصفح کی صفت سے ان کو دھوکہ ہوا) اللہ نے فرمایا کہ نہیں، ہمارا پیغمبر شر وفساد کی کوئی بات نہیں سنتا جو بھی سنتا ہے تمہارے لئے اس میں خیر اور بھلائی ہے۔