سورة البقرة - آیت 58

وَإِذْ قُلْنَا ادْخُلُوا هَٰذِهِ الْقَرْيَةَ فَكُلُوا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ ۚ وَسَنَزِيدُ الْمُحْسِنِينَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور جب ہم نے کہا کہ اس بستی میں داخل ہوجاؤ، اور اس میں جتنا چاہو اور جہاں سے چاہو کھاؤ، اور دروازہ میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو، اور (حطۃ) (١١١) کہتے جاؤ یعنی ہماری معافی ہو ہم تمہاری خطائیں بخش دیں گے اور نیک لوگوں کو ہم زیادہ دیں گے

ابن کثیر - حافظ عماد الدین ابوالفداء ابن کثیر صاحب

یہود کی پھر حکم عدولی جب موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے آئے اور انہیں ارض مقدس میں داخل ہونے کا حکم ہوا جو ان کی موروثی زمین تھی ان سے کہا گیا کہ یہاں جو عمالیق ہیں ان سے جہاد کرو تو ان لوگوں نے نامردی دکھائی جس کی سزا میں انہیں میدان تیہ میں ڈال دیا گیا جیسے کہ سورۃ المائدہ میں ذکر ہے «یَا قَوْمِ ادْخُلُوا الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَۃَ الَّتِی کَتَبَ اللہُ» ( 5-المائدۃ : 21 - 24 ) الخ ، قریہ سے مراد بیت المقدس ہے ۔ (تفسیر ابن ابی حاتم:181/1) سدی ، ربیع ، قتادہ ، ابو مسلم رحمہ اللہ علیہم وغیرہ نے یہی کہا ہے ، قرآن میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم اس پاک زمین میں جاؤ جو تمہارے لیے لکھ دی گئی ہے بعض کہتے ہیں اس سے مراد ” اریحا “ ہے بعض نے کہا ہے مصر مراد ہے لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے کہ مراد اس سے بیت المقدس ہے یہ واقعہ تیہ سے نکلنے کے بعد کا ہے جمعہ کے دن شام کو اللہ تعالیٰ نے انہیں اس پر فتح عطا کی بلکہ سورج کو ان کے لیے ذرا سی دیر ٹھہرا دیا تھا تاکہ فتح ہو جائے فتح کے بعد انہیں حکم ہوا کہ اس شہر میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہوں ۔ جو اس فتح کی اظہار تشکر کا مظہر ہو گا ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سجدے سے مراد رکوع لیا ہے ۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:113/2) راوی کہتے ہیں کہ سجدے سے مراد یہاں پر خشوع خضوع ہے کیونکہ حقیقت پر اسے محمول کرنا ناممکن ہے ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں یہ دروازہ قبلہ کی جانب تھا اس کا نام باب الحطۃٰ تھا ۔ رازی رحمہ اللہ نے یہ بھی کہا ہے کہ دروازے سے مراد جہت قبلہ ہے ۔ بجائے سجدے کے اس قوم نے اپنی رانوں پر کھسکنا شروع کیا اور کروٹ کے بل داخل ہونے لگے سروں کو جھکانے کے بجائے اور اونچا کر لیا ۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:183/1) حطتہ کے معنی بخشش کے ہیں ۔ (ایضاً) بعض نے کہا ہے کہ یہ امر حق ہے عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں اس سے مراد ( لا الہٰ الا اللہ ) کہنا ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ان میں گناہوں کا اقرار ہے حسن اور قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کے معنی یہ ہیں اللہ ہماری خطاؤں کو ہم سے دور کر دے ۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:185/1)پھر ان سے وعدہ کیا جاتا ہے کہ اگر تم اسی طرح یہی کہتے ہوئے شہر میں جاؤ گے اور اس فتح کے وقت بھی اپنی پستی اور اللہ کی نعمت اور اپنے گناہوں کا اقرار کرو گے اور مجھ سے بخشش مانگو تو چونکہ یہ چیزیں مجھے بہت ہی پسند ہیں میں تمہاری خطاؤں سے درگزر کر لوں گا ۔ فتح مکہ کے موقع پر فرمان الٰہی سورۃ اذا جاء نازل ہوئی تھی ۔ (110-النصر:1) اور اس میں بھی یہی حکم دیا گیا تھا کہ جب اللہ کی مدد آ جائے مکہ فتح ہو اور لوگ دین اللہ میں فوج در فوج آنے لگیں تو اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم اپنے رب کی تسبیح اور حمد و ثنا بیان کرو اس سے استغفار کرو وہ توبہ قبول کرنے والا ہے ۔ اس سورت میں جہاں ذکرو استغفار کا ذکر ہے وہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری وقت کی خبر تھی ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہم کے سامنے اس سورت کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا تھا ۔ (صحیح بخاری:4294) جسے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا جب مکہ فتح ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہر میں داخل ہوئے تو انتہائی تواضع اور مسکینی کے آثار آپ پر تھے یہاں تک کے سر جھکائے ہوئے تھے اونٹنی کے پالان سے سر لگ گیا تھا ۔ شہر میں جاتے ہی غسل کر کے ضحیٰ کے وقت آٹھ رکعت نماز ادا کی ۔ (صحیح بخاری:1103 ) جو ضحیٰ کی نماز بھی تھی اور فتح کے شکریہ کی بھی دونوں طرح کے قول محدثین کے ہیں ۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے جب ملک ایران فتح کیا اور کسری کے شاہی محلات میں پہنچے تو اسی سنت کے مطابق آٹھ رکعتیں پڑھیں دو دو رکعت ایک سلام سے پڑھنے کا بعض کا مذہب ہے اور بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ آٹھ ایک ساتھ ایک ہی سلام سے پڑھیں ۔ «وَاللہُ اَعْلَمُ» صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بنی اسرائیل کو حکم کیا گیا کہ وہ سجدہ کرتے ہوئے اور (حِطَّۃٌ) کہتے ہوئے دروازے میں داخل ہوں لیکن انہوں نے بدل دیا اور اپنی رانوں پر گھسٹتے ہوئے اور (حِطَّۃٌ) کے بجائے (حَبَّۃٌ فِیْ شَعْرَۃٍ) کہتے ہوئے جانے لگے ۔ (صحیح بخاری:4479) نسائی ، عبدالرزاق ، ابوداؤد ، مسلم اور ترمذی میں بھی یہ حدیث بہ اختلاف الفاظ موجود ہے اور سنداً صحیح ہے ۔ (صحیح بخاری:4479) سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے ۔ ذات الحنطل نامی گھاٹی کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس گھاٹی کی مثال بھی بنی اسرائیل کے اس دروازے جیسی ہے جہاں انہیں سجدہ کرتے ہوئے اور حِطَّۃٌ کہتے ہوئے داخل ہونے کو کہا گیا تھا اور ان کے گناہوں کی معافی کا وعدہ کیا گیا تھا ۔ (مسند بزار 1812:ضعیف) برآء فرماتے ہیں سَیَقُوْلُ السٰفَہَاءُ میں السٰفَہَاءُ یعنی جاہلوں سے مراد یہود ہیں جنہوں نے اللہ کی بات کو بدل دیا تھا سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حِطَّۃٌ کے بدلے انہوں نے حنطۃ حبتہ حمراء فیھا شعیرۃ کہا تھا ان کی اپنی زبان میں ان کے الفاظ یہ تھے ھطا سمعانا ازبتہ مزبا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی ان کی اس لفظی تبدیلی کو بیان فرماتے ہیں کہ رکوع کرنے کے بدلے وہ رانوں پر گھسٹتے ہوئے اور حِطَّۃٌ کے بدلے حنطۃ کہتے ہوئے داخل ہوئے عطا ، مجاہد ، عکرمہ ، ضحاک ، حسن ، قتادہ ، ربیع ، یحییٰ رحمہ اللہ علیہم نے بھی یہی بیان کیا ہے مطلب یہ ہے کہ جس قول و فعل کا انہیں حکم دیا گیا تھا انہوں نے مذاق اڑایا جو صریح مخالفت اور معاندت تھی اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا عذاب نازل فرمایا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے ظالموں پر ان کے فسق کی وجہ سے آسمانی عذاب نازل فرمایا ۔ رجز سے مراد عذاب ہے کوئی کہتا ہے غضب ہے کسی نے طاعون کہا ہے ایک مرفوع حدیث ہے طاعون رجز ہے اور یہ عذاب تم سے اگلے لوگوں پر اتارا گیا تھا ۔ (صحیح مسلم:2218) بخاری اور مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب تم سنو کہ فلاں جگہ طاعون ہے تو وہاں نہ جاؤ الخ(صحیح بخاری:5728) ابن جریر میں ہے کہ یہ دکھ اور بیماری رجز ہے تم سے پہلے لوگ انہی سے عذاب دئیے گئے تھے ۔ (صحیح بخاری:3473)