سورة القلم - آیت 26

فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُوا إِنَّا لَضَالُّونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

جب انہوں نے اسے دیکھا (٧) تو کہنے لگے کہ ہم یقیناً راستہ بھول گئے ہیں

ابن کثیر - حافظ عماد الدین ابوالفداء ابن کثیر صاحب

1 لیکن جب وہاں پہنچے تو ہکا بکا رہ گئے ، کہ لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ میوؤں سے لدے ہوئے درخت اور پکے ہوئے پھل سب غارت اور برباد ہو چکے ہیں سارے باغ میں آندھی پھر گئی ہے اور کل باغ میوؤں سمیت جل کر کوئلہ ہو گیا ہے ، کوئی پھل نصف دام کا بھی نہیں رہا ، ساری تروتازگی پژمردگی سے بدل گئی ہے ، باغ سارا کا سارا جل کر راکھ ہو گیا ہے درختوں کے کالے کالے ڈراؤنے ٹنڈ کھڑے ہوئے ہیں ، پہلے تو سمجھے کہ ہم راہ بھول گئے کسی اور باغ میں چلے آئے اور یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ ہمارا طریقہ کار غلط تھا جس کا یہ نتیجہ ہے ۔ پھر بغور دیکھنے سے جب یقین ہو گیا کہ باغ تو ہمارا ہی ہے تب سمجھ گئے اور کہنے لگے ، ہے تو یہی لیکن ہم بدقسمت ہیں ، ہمارے نصیب میں ہی اس کا پھل اور فائدہ نہیں ، ان سب میں جو عدل و انصاف والا اور بھلائی اور بہتری والا تھا وہ بول پڑا کہ دیکھو میں تو پہلے ہی تم سے کہتا تھا کہ تم ان شاء اللہ کیوں نہیں کہتے ۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان کے زمانہ میں سبحان اللہ کہنا بھی ان شاء اللہ کہنے کے قائم مقام تھا ۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کے معنی ہی ان شاء اللہ کہنے کے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بہتر شخص نے ان سے کہا کہ دیکھو میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم کیوں اللہ کی پاکیزگی اور اس کی حمد و ثناء نہیں کرتے ؟ یہ سن کر اب وہ کہنے لگے ہمارا رب پاک ہے ، بیشک ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ، اب اطاعت بجا لائے جبکہ عذاب پہنچ چکا ، اب اپنی تقصیر کو مانا جب سزا دے دی گئی ، اب تو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے بہت ہی برا کیا کہ مسکینوں کا حق مارنا چاہا اور اللہ کی فرمانبرداری سے رک گئے ، پھر سب نے کہا کہ کوئی شک نہیں ہماری سرکشی حد سے بڑھ گئی اسی وجہ سے اللہ کا عذاب آیا ، پھر کہتے ہیں شاید ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے یعنی دنیا میں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آخرت کے خیال سے انہوں نے یہ کہا ہو ۔ «وَاللہُ اَعْلَمُ» بعض سلف کا قول ہے کہ یہ واقعہ اہل یمن کا ہے ، سعید بن جیبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ لوگ ضروان کے رہنے والے تھے جو صنعاء سے چھ میل کے فاصلہ پر ایک بستی ہے اور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ اہل حبشہ تھے ۔ مذہباً اہل کتاب تھے یہ باغ انہیں ان کے باپ کے ورثے میں ملا تھا اس کا یہ دستور تھا کہ باغ کی پیداوار میں سے باغ کا خرچ نکال کر اپنے اور اپنے بال بچوں کے لیے سال بھر کا خرچ رکھ کر باقی نفع اللہ کے نام صدقہ کر دیتا تھا اس کے انتقال کے بعد ان بچوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا کہ ہمارا باپ تو بے وقوف تھا جو اتنی بڑی رقم ہر سال ادھر ادھر دے دیتا تھا ہم ان فقیروں کو اگر نہ دیں اور اپنا مال باقاعدہ سنبھالیں تو بہت جلد دولت مند بن جائیں یہ ارادہ انہوں نے پختہ کر لیا تو ان پر وہ عذاب آیا جس نے اصل مال بھی تباہ کر دیا اور بالکل خالی ہاتھ رہ گئے ۔ پھر فرماتا ہے ’ جو شخص بھی اللہ کے حکموں کے خلاف کرے اور اللہ کی نعمتوں میں بخل کرے اور مسکینوں محتاجوں کا حق ادا نہ کرے اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرے اس پر اسی طرح کے عذاب نازل ہوتے ہیں اور یہ تو دنیوی عذاب ہیں آخرت کے عذاب تو ابھی باقی ہیں جو سخت تر اور بدتر ہیں ‘ ۔ بیہقی کی ایک حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت کھیتی کاٹنے اور باغ کے پھل اتارنے سے منع فرما دیا ہے } ۔ ۱؎ (السنن الکبری للبیھقی:9/298-290:مرسل و ضعیف)