سورة البقرة - آیت 137

فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنتُم بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوا ۖ وَّإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ ۖ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

پس اگر یہ (یہود و نصاری) تمہاری طرح ایمان (٢٠٠) لے آئے، تو راہ راست پر آگئے، اور اگر انہوں نے حق سے منہ پھیر لیا، تو (اس لیے کہ وہ) مخالفت و عداوت پر آگئے، پس اللہ آپ کے لیے ان کے مقابلے میں کافی ہوگا، اور وہ بڑا سننے والا اور بڑا جانے والا ہے

ابن کثیر - حافظ عماد الدین ابوالفداء ابن کثیر صاحب

شرط نجات یعنی اپنے ایماندار صحابیو ! اگر یہ کفار بھی تم جیسا ایمان لائیں یعنی تمام کتابوں اور رسولوں کو مان لیں تو حق و رشد ہدایت ونجات پائیں گے اور اگر باوجود قیام حجت کے باز رہیں تو یقیناً حق کے خلاف ہیں ۔ اللہ تعالیٰ تجھے ان پر غالب کر کے تمہارے لیے کافی ہو گا ، وہ سننے جاننے والا ہے ۔ نافع بن نعیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی خلیفہ کے پاس سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ کا قرآن بھیجا گیا زیاد نے یہ سن کر کہا کہ لوگوں میں مشہور ہے کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو لوگوں نے شہید کیا اس وقت یہ کلام اللہ ان کی گود میں تھا اور آپ رضی اللہ عنہ کا خون ٹھیک ان الفاظ پڑھا تھا آیت «فَسَیَکْفِیْکَہُمُ اللّٰہُ ۚ وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ» ( 2 ۔ البقرہ : 137 ) کیا یہ صحیح ہے ؟ حضرت نافع رحمہ اللہ علیہ نے کہا بالکل ٹھیک ہے میں نے خود اس آیت پر ذوالنورین کا خون دیکھا تھا ( رضی اللہ عنہما )۔(تفسیر ابن ابی حاتم:402/1) رنگ سے مراد دین ہے اور اس کا زبر بطور اغراء کے ہے ۔(تفسیر ابن ابی حاتم:402/1) جسے «فطرۃ اللہ» میں ۔(30-الروم:3) مطلب یہ ہے کہ اللہ کے دین کو لازم پکڑ لو اس پر چمٹ جاؤ ۔ بعض کہتے ہیں یہ بدل ہے ملتہ ابراہیم سے جو اس سے پہلے موجود ہے ۔ سیبویہ کہتے ہیں یہ صدر موکد ہے ۔ امنا باللہ کی وجہ سے منصوب ہے جیسے « وَعْدَ اللہِ ۖ» (30-الروم:6) ایک مرفوع حدیث ہے”بنی اسرائیل نے کہا اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہمارا رب رنگ بھی کرتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ سے ڈرو آواز آئی ان سے کہہ دو کہ تمام رنگ میں ہی تو پیدا کرتا ہوں ۔(تفسیر ابن ابی حاتم:403/1) “یہی مطلب اس آیت کا بھی ہے لیکن اس روایت کا موقوف ہونا ہی صحیح ہے اور یہ بھی اس وقت جب کہ اس کی اسناد صحیح ہوں ۔