سورة الحديد - آیت 27

ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلَىٰ آثَارِهِم بِرُسُلِنَا وَقَفَّيْنَا بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَآتَيْنَاهُ الْإِنجِيلَ وَجَعَلْنَا فِي قُلُوبِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ رَأْفَةً وَرَحْمَةً وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا ۖ فَآتَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا مِنْهُمْ أَجْرَهُمْ ۖ وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ فَاسِقُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

پھر ہم نے ان کے پیچھے اپنے دوسرے رسول (٢٥) بھیجے، اور ان سب کے پیچھے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا، اور ہم نے انہیں انجیل دیا، اور جن لوگوں نے ان کی پیروی کی ان کے دلوں میں نرمی اور رحمت ڈال دی۔ اور جس ” رہبانیت“ کی بدعوت انہوں نے پیدا کی، اسے ہم نے ان پر فرض نہیں کیا تھا، مگر انہوں نے اللہ کی رضا کی چاہت میں ایسا کیا تھا، پھر انہوں نے کما حقہ اسے نہیں نباہا، پس ان میں سے جو لوگ ایمان پر قائم رہے، ہم نے انہیں ان کا نیک اجر دیا، اور ان میں سے بہت سارے فاسق ہوگئے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل ایم اے

فہم القرآن: ربط کلام : حضرت نوح اور حضرت ابراہیم کے بعد عیسیٰ (علیہ السلام) کی تشریف آوری اور ان کی بعثت کا مقصد۔ اللہ تعالیٰ نے نوح اور ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد وقفے وقفے کے بعد بے شمار انبیائے کرام (علیہ السلام) مبعوث فرمائے۔ ان کے آخر اور حضرت محمد (ﷺ) سے پہلے حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا اور انہیں انجیل کے ساتھ بڑے بڑے معجزات عطا فرمائے جن لوگوں نے عیسیٰ ( علیہ السلام) کی اتباع کی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں نرمی اور شفقت پیدا فرمادی۔ عیسائیوں نے از خود اپنے لیے رہبانیت ایجاد کرلی حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ان پر لازم قرار نہیں دیا تھا۔ انہوں نے اسے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اپنے آپ پر فرض کرلیا جس کا وہ حق ادا نہ کرسکے۔ جس طرح انہیں حق ادا کرنا چاہیے تھا۔ ان میں جو لوگ ایمان لائے اللہ تعالیٰ نے انہیں اجر سے سرفراز فرمایا لیکن ان کی اکثریت نافرمان تھی۔ رہبانیت کا مادہ رہب ہے جس کا معنٰی خوف ہے۔ ” رَہبانیّت“ کا مطلب ہے مسلک خوفزدگی اور ” رُہبانیّت“ کا معنٰی مسلک خوفزدگان ہے۔ اصطلاحاً اس سے مراد کسی شخص کا خوف کی بنا پر تارک الدنیا بن جانا اور دنیوی زندگی سے الگ تھلگ ہونا ہے۔ رَأْفَۃً کا معنٰی : عربی ڈکشنری کے لحاظ سے ” رَأْفَۃً“ کا معنٰی دوسرے کی تکلیف دیکھ کر تڑپ جانا اور رحمت کا معنٰی شفقت اور کسی دوسرے کی مدد کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو نہایت ہی مشفق اور نرم دل پیدا فرمایا۔ اس وقت کا تقاضا تھا کہ لوگوں کے ساتھ شفقت اور مہربانی کی جائے کیونکہ یہودیوں نے اللہ تعالیٰ کی بار بار نافرمانی کرکے اپنے لیے سختیاں پیدا کرلی تھیں، اس سختی کے خاتمے کے لیے شریعت عیسوی میں نرمی اور شفقت کا پہلو غالب رکھا گیا۔ اسی وجہ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے امتی کو یہ تعلیم اور تلقین کی کہ اگر تیرے چہرے پر کوئی تھپڑ مارے تو تجھے بدلہ لینے کی بجائے اپنے چہرے کا دوسرا رخ اس کے سامنے کردینا چاہیے تاکہ وہ شرمندہ ہوجائے۔ اسی تعلیم کا اثر تھا اور ہے کہ عیسائیوں میں اپنے آپ کو نصاریٰ کہلوانے والے مسلمانوں کے بارے میں نسبتاً نرم گوشہ رکھتے ہیں جس کا ذکر یوں کیا گیا ہے۔ ﴿لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَہُوْدَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا وَ لَتَجِدَنَّ اَقْرَبَہُمْ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰی ذٰلِکَ بِاَنَّ مِنْہُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَ رُہْبَانًا وَّ اَنَّہُمْ لَا یَسْتَکْبِرُوْنَ﴾ (المائدۃ:82) ” یقیناً آپ ایمان داروں کے ساتھ سب لوگوں سے زیادہ عداوت رکھنے والے یہود کو اور ان لوگوں کو پائیں گے جو شرک کرتے ہیں اور یقیناً آپ ایمانداروں کے ساتھ دوستی میں ان کو قریب پائیں گے جو اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے ہیں کیونکہ ان میں عالم اور راہب ہیں جو تکبر نہیں کرتے۔“ رہبانیت : حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد عیسائیوں نے اللہ تعالیٰ کی قربت چاہنے کے لیے رہبانیت اختیار کرلی حالانکہ ان پر فرض نہیں کی گئی تھی۔ رہبانیت کو اپنے آپ پر فرض قرار دینے کے باوجود اس کے تقاضے پورے نہ کرسکے۔ رہبانیت اختیار کرنے والوں کی غالب اکثریت نے اپنے آپ پر کچھ حلال چیزوں کو حرام کرلیا اور کچھ حرام چیزوں کو جائز قرار دیا۔ جس طرح ہمارے ہاں صوفیائے کرام نے تصوف اختیار کرنے کے بعد طریقت کے نام پر اپنے طور پر کچھ باتوں کو حلال سمجھا اور کچھ کو اپنے لیے حرام قرار دیا۔ شادی سے اجتناب کرنا : رہبانیت اختیار کرنے کی وجہ سے جو لوگ پاد ری اور پوپ بنے انہوں نے اپنے آپ پر یہ پابندی لگا لی کہ وہ زندگی بھر کسی عورت سے نکاح نہیں کریں گے۔ اسی اصول کے پیش نظر آج بھی شادی کرنے والا شخص پادری، پوپ اور بشپ نہیں بن سکتا۔ اس پابندی کے باوجود شروع سے لے کر آج تک اس منصب پر فائز ہونے والے پادری اور پوپ اخلاقی جرائم کے مرتکب ہوئے یہاں تک کہ ان کے بارے میں لواطت زدگی کے سکینڈل بھی زبانِ زد عام ہوتے رہے ہیں۔ دین اسلام اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی شریعت میں رہبانیت کی کوئی گنجائش نہیں۔ نبی آخرالزمان (ﷺ) نے کھلے الفاظ میں اس سے منع کیا ہے۔ ﴿عَنْ أَنَسٍ (رض) عَنِ النَّبِیِّ () قَالَ إِنَّ لِکُلِّ أَمَۃٍ رَہْبَانِیَّۃًوَرَہْبَانِیَّۃُ ہَذِہِ الْأُمَّۃِ الْجِہَادُ فِی سَبِیل اللہِ﴾ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان : باب الجھاد) ” حضرت انس (رض) نبی اکرم (ﷺ) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ (ﷺ) نے فرمایا ہر امت کے لیے رہبانیت کا ایک انداز تھا میری امت کی رہبانیت اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ہے۔“ بدعت کی مذّمت : جو کام قرآن وسنت سے ثابت نہیں اسے دین اور ثواب سمجھ کر کرنا بدعت ہے بے شک وہ کام کتنا ہی اچھا دکھائی کیوں دیتاہو۔ ہر بدعت گمراہی اور ہر گمراہی جہنم میں داخل کرنے والی ہے کیونکہ بدعتی شخص عملاً اور اعتقاداً دین کو نامکمل سمجھتا ہے اس لیے نبی معظم (ﷺ) خطبہ جمعہ کی ابتدا میں یہ الفاظ ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ (عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ (رض) قَالَ کَانَ رَسُول اللّٰہِ () إِذَا خَطَبَ۔۔ یقول أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ خَیْرَ الْحَدِیثِ کِتَاب اللّٰہِ وَخَیْرُ الْہُدَی ہُدَی مُحَمَّدٍ وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُہَا وَکُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٍ) ( رواہ مسلم : کتاب الجمعۃ، باب تخفیف الصلاۃ) ” حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (ﷺ) جب بھی خطبہ دیتے تو ارشاد فرماتے۔۔۔ بلاشبہ سب سے بہترین کلام اللہ کی کتاب ہے اور ہدایت کا بہترین راستہ محمد (ﷺ) کا ہے اور برے کاموں میں سے بدترین کام بدعت ایجاد کرنا ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔“ (عَنْ عَائِشَۃَ (رض) قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا ھٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَھُوَ رَدٌّ) (رواہ مسلم : باب نَقْضِ الأَحْکَامِ الْبَاطِلَۃِ وَرَدِّ مُحْدَثَاتِ الأُمُورِ) ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں رسول محترم (ﷺ) نے فرمایا جس نے ہمارے دین میں نئی بات ایجاد کی جو دین میں نہیں ہے وہ ٹھکرا دی جائے گی۔“ (عَنْ حُذَیْفَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ () لاَ یَقْبَلُ اللَّہُ لِصَاحِبِ بِدْعَۃٍ صَوْمًا وَلاَ صَلاَۃً وَلاَ صَدَقَۃً وَلاَ حَجًّا وَلاَ عُمْرَۃً وَلاَ جِہَادًا وَلاَ صَرْفًا وَلاَ عَدْلاً یَخْرُجُ مِنَ الإِسْلاَمِ کَمَا تَخْرُجُ الشَّعَرَۃُ مِنَ الْعَجِینِ) (رواہ ابن ماجہ : باب اجْتِنَابِ الْبِدَعِ وَالْجَدَلِ، قال الالبانی صحیح) ” حضرت حذیفہ (رض) سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا اللہ تعالیٰ بدعتی آدمی کا روزہ، نماز، حج، عمرہ، جہاد، اور کوئی چھوٹی بڑی نیکی قبول نہیں کرتا۔ ایسا شخص اسلام سے اس طرح نکل جاتا ہے جیسے گوندھے ہوئے آٹے سے بال نکل جاتا ہے۔“ مسائل: 1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد انبیائے کرام (علیہ السلام) کی بعثت کا سلسلہ جاری رکھا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو انجیل عطا فرمائی۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ( علیہ السلام) کے سچے پیروکاروں میں مسلمانوں کے بارے میں نرمی رکھ دی ہے۔ 4۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ان کے پیروکاروں نے رہبانیت کی بدعت ایجاد کی۔ 5۔ نبی آخر الزماں (ﷺ) کی نبوت سے پہلے جو لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور اس کے تقاضے پورے کرتے رہے اللہ تعالیٰ انہیں دوہرا اجر عطا فرمائے گا۔ 6۔ عیسائیوں کی غالب اکثریت ہمیشہ سے ” اللہ“ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی نافرمان رہی ہے۔ تفسیربالقرآن : اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو انجیل اور معجزات عطا فرمائے : 1۔ مٹی سے پرندہ بنا کر اڑانا، مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو باذن اللہ اچھا کرنا۔ ( آل عمران :49) 2۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کلمۃ اللہ ہیں اور دنیا و آخرت میں عزت پانے والے ہیں۔ (آل عمران :45) 3۔ ” اللہ“ نے عیسیٰ ابن مریم کو معجزات سے نوازا اور روح القدس کے ساتھ اس کی مدد فرمائی۔ (البقرۃ:87) 4۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کا بن باپ کے پیدا ہونا۔ (آل عمران :47) 5۔ روح القدس کی تائید حاصل ہونا۔ (البقرۃ:253) 6۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا زندہ آسمانوں پر اٹھایا جانا۔ (النساء :158) 7۔ پیدائش کے چند دن بعد اپنی نبوت کا اعلان کرنا۔ (مریم :30) 8۔ گود میں اپنی والدہ کی براءت کا اعلان کرنا۔ (آل عمران :47) 9۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کالوگوں کو انکی کھانے پینے اور ذخیرہ کی ہوئی چیزوں کے بارے مطلع کرنا۔ (آل عمران :49)