سورة الشورى - آیت 16

وَالَّذِينَ يُحَاجُّونَ فِي اللَّهِ مِن بَعْدِ مَا اسْتُجِيبَ لَهُ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِندَ رَبِّهِمْ وَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور جو لوگ اللہ کے دین کے بارے میں، اسے (بہتوں کی ذریعہ) قبول کئے جانے کے بعد جھگڑتے (١٢) ہیں، ان کی دلیل ان کے رب کے نزدیک باطل ہے، اور ان پر اللہ کا غضب ہے، اور ان کے لئے سخت عذاب ہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل ایم اے

فہم القرآن : ربط کلام : ” اللہ“ کی ذات اور آیات کے بارے میں جھگڑا کرنے والوں کی سزا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہر قسم کے دلائل دیتے ہوئے ثابت فرمایا ہے کہ وہ اپنی ذات، صفات اور اختیارات میں اکیلا ہے۔ زمین و آسمان میں کوئی ذات ایسی نہیں جو کسی اعتبار سے اس کی معاون اور شریک ہو۔ اتنی ٹھوس اور واضح بات ہونے کے باوجود کافر اپنے رب کی ذات کا انکار کرتے ہیں اور مشرک اس کی ذات، صفات اور اختیارات کے بارے میں اہل توحید کے ساتھ جھگڑا کرتے ہوئے لایعنی قسم کے دلائل دیتے ہیں۔ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ کفار اور مشرکین کے دلائل اس قدر بوسیدہ اور بے ہودہ ہیں۔ جیسے کسی چیز کو پاؤں تلے مسل دیا گیا ہو۔ سمجھانا یہ مقصود ہے کہ کفار اور مشرکین کی حجّت بازی اللہ تعالیٰ کے نزدیک انتہائی گھٹیا اور ذلیل ہے۔ اسی لیے موحّدین کو ایسی باتوں کو درخوراعتنا نہیں سمجھنا چاہیے۔ جسے مشرک دلیل سمجھ کر پیش کرتے ہیں درحقیقت یہ اپنے رب کے ساتھ جھگڑا کرنے کے کچھ بھی نہیں ہے ان پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے اور قیامت کے دن انہیں شدید ترین عذاب دیا جائے گا۔ مسائل : 1۔ کفار اور مشرکین کے دلائل حجّت بازی کے سوا کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کفار اور مشرکین کی حجّت بازی انتہائی گھٹیا اور ذلیل حرکت ہے 3۔ جو لوگ اللہ کی ذات اور صفات کے بارے میں حجت بازی کرتے ہیں انہیں شدید ترین عذاب دیا جائے گا۔