سورة الصافات - آیت 83

وَإِنَّ مِن شِيعَتِهِ لَإِبْرَاهِيمَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور بے شک ابراہیم (٢١) بھی انہی کی جماعت کے تھے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل ایم اے

فہم القرآن:(آیت83سے84) ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد کئی پیغمبر مبعوث کیے گئے۔ ان میں سب سے نمایاں ابراہیم (علیہ السلام) کی شخصیت گرامی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی اسی دعوت کے ساتھ مبعوث کیے گئے جو حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے پیروکار انبیاء کرام دیا کرتے تھے۔ اس لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تعارف یوں کروایا گیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) اسی مقدس جماعت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔ جن کا تعلق حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ ہے۔ حضرت ابراہیم کو جب بھی اللہ تعالیٰ نے کوئی حکم دیا یا کسی آزمائش میں ڈالا تو وہ دل وجان سے اپنے رب کے حضور پیش ہوئے۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں خراج تحسین سے نوازا ہے جب ابر اہیم قلب سلیم کے ساتھ اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جس میں اللہ کے سوا کسی کی محبت غالب نہ ہو اور وہ ہر حال میں بلا شرکت غیرے اپنے رب کی سمع و اطاعت کے لیے تیار رہے۔ قلب سلیم کی بنا پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے باپ، قوم اور حکمرانوں کی مخالفت مول لی اور آگ میں جانا گوارا کرلیا۔ مگر اپنے رب کے ساتھ کسی قسم کا شرک گوارا نہ کیا قلب سلیم کی بدولت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنا وطن چھوڑا۔ قلب سلیم کی بنیاد پر ہی انہوں اپنی رفیقہ حیات اور نونہال کو عرب کے ویرانے میں چھوڑا تھا اور اسی قلب سلیم کی بنیاد پر ہی انہوں نے اپنے اکلوتے بیٹے اسماعیل (علیہ السلام) کے حلقوم نازک پر چھری چلائی۔ اسی قلب سلیم کی وجہ سے انہوں نے بتوں کو پاش پاش کیا تھا۔ (عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ أَنَّ رَسُول اللَّہِ () کَانَ یَقُولُ فِی صَلاَتِہِ اللَّہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ قَلْبًا سَلِیمًا وَلِسَانًا صَادِقًا)[ روا النسائی : باب نَوْعٌ آخَرُ مِنَ الدُّعَاءِ] ” شدّاد بن اوس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (ﷺ) نماز میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے : اے اللہ ! میں تجھ سے قلب سلیم، صدق لسان کا سوال کرتا ہوں۔“ مسائل: 1۔ اللہ تعالیٰ سے قلب سلیم کی دعا کرنی چاہیے۔ 2۔ قلب سلیم والاشخص ہی جنت میں داخل ہوگا۔