سورة البقرة - آیت 121

الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ أُولَٰئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ ۗ وَمَن يَكْفُرْ بِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

جن کو ہم نے کتاب (١٨٠) دی ہے، اس کی ایسی تلاوت کرتے ہیں جیسی ہونی چاہئے، وہی لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں، اور جو لوگ اس کا انکار کریں گے، وہی خسارہ اٹھانے والے ہوں گے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

(عَنْ أَبِی ذَرٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّ بَعْدِی مِنْ أُمَّتِی أَوْ سَیَکُونُ بَعْدِیْ مِنْ أُمَّتِی قَوْمٌ یَقْرَءُ وْنَ الْقُرْآنَ لَا یُجَاوِزُ حَلَاقِیمَہُمْ یَخْرُجُونَ مِنْ الدِّینِ کَمَا یَخْرُجُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ ثُمَّ لَا یَعُوْدُوْنَ فیہِ ہُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِیقَۃِ) [ رواہ مسلم : کتاب الزکوۃ، باب الخوارج شر الخلق والخلیقۃ] ” حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے بعد ایک قوم آئے گی وہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلقوں سے تجاوز نہیں کرے گا۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر اپنے ہدف سے نکل جاتا ہے۔ پھر وہ دین کی طرف نہیں لوٹ سکیں گے۔ وہ انسانوں اور جانوروں میں سے بدترین ہوں گے۔“ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ مَا أَذِنَ اللّٰہُ لِشَیْءٍ مَا أَذِنَ للنَّبِیِّ أَنْ یَّتَغَنّٰی بالْقُرْآنِ) [ رواہ البخاری : کتاب، فضائل القرآن، باب من لم یتغن بالقرآن] ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے کسی اور چیز کی نبی کو اتنی اجازت نہیں دی جتنی کہ قرآن کو خوبصورت آواز کے ساتھ پڑھنے کی اجازت دی ہے۔“ (عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زَیِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِکُمْ) [ رواہ ابوداوٗد : کتاب الصلاۃ، باب استحباب الترتیل فی القراء ۃ ] ” حضرت براء بن عازب (رض) بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قرآن کو اپنی آوازوں کے ساتھ مزین کرو۔“ مسائل ١۔ جب تک مسلمان یہودی یا عیسائی نہ ہوجائیں یہود ونصاریٰ راضی نہیں ہو سکتے۔ ٢۔ کتاب و سنت کی اتباع کے بغیر اللہ تعالیٰ کی ہدایت نصیب نہیں ہوسکتی۔ ٣۔ قرآن و سنت کی اتباع کیے بغیر خدا کی نصرت و حمایت حاصل نہیں ہوتی۔ ٤۔ قرآن مجید کی تلاوت اس کے تقاضے پورے کرتے ہوئے کرنی چاہیے۔ ٥۔ قرآن کی راہنمائی کا انکار کرنے والے دنیا و آخرت میں نقصان اٹھائیں گے۔ تفسیر بالقرآن خواہشات کی پیروی کرنا جرم ہے : ١۔ اللہ کی راہنمائی آجانے کے بعد اپنی خواہشات کی پیروی نہیں کرنا چاہیے۔ (ص : ٢٦) ٢۔ فیصلہ کرتے وقت خواہشات کے پیچھے نہیں لگنا چاہیے۔ (المائدۃ: ٤٩) ٣۔ علم کے باوجود خواہشات کی پیروی کرنے والا اللہ کی ضمانت سے نکل جاتا ہے۔ (الرعد : ٣٧) ٤۔ اپنی خواہش کی پیروی کرنا اپنے نفس کو رب بنانا ہے۔ (الفرقان : ٤٣) ٥۔ حق کو خواہشات کے تابع کرنے سے نظام کائنات درہم برہم ہوجائے گا۔ (المؤمنون : ٧١) ٦۔ نبی کی بات نہ ماننا اپنی خواہش کی پیروی کی علامت ہے۔ (القصص : ٥٠) تلاوت قرآن کے آدا ب : ١۔ قرآن کی تلاوت کا حق ادا کرنا چاہیے۔ (البقرۃ: ١٢١) ٢۔ قرآن کی تلاوت کے وقت تدبر کرنا چاہیے۔ (النساء : ٨٢) ٣۔ سحری کے وقت تلاوت کرنا افضل ہے۔ (الاسراء : ٧٨)