سورة الفتح - آیت 4

هُوَ الَّذِي أَنزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ لِيَزْدَادُوا إِيمَانًا مَّعَ إِيمَانِهِمْ ۗ وَلِلَّهِ جُنُودُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اسی نے مومنوں کے دلوں میں سکون و اطمینان (٣) اتار دیا تھا کہ ان کے ایمان سابق میں مزید ایمان کا اضافہ ہوجائے، اور آسمانوں اور زمین کی فوجیں اللہ ہی کی ہیں، اور اللہ بڑا جاننے والا، بڑی حکمت والا ہے

تفسیر اشرف الحواشی - محمد عبدہ الفلاح

ف 10 یہ اس طرف اشارہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد عام مسلمان بہت رنجیدہ و غمگین تھے لیکن جب اللہ و رسول کی رضا اسی صلح میں پائی تو خوش ہوگئے اور بعد کے حالات سے ان پر صلح حدیبیہ کا فتح مبین ہونا عیاں ہوتا چلا گیا حتی کہ ان کے دل بالکل مطمئن ہوگئے۔ ف 11 یعنی جوں جوں اللہ و رسول کی بتائی باتیں حقیقت بن کر ان کے سامنے آتی گئیں، اللہ و رسول پر ان کا ایمان بڑھتا گیا۔ ایمان میں یہ اضافہ کو مصدق بہ کے اعتبار سے بھی ہوسکتا ہے کیونکہ انہیں اللہ اور رسول کی کسی بات میں شک نہ تھا مگر اصل بات یہ ہے کہ نفس ایمان میں اضافہ تسلیم کیا جائے کہ دلائل کی کثرت سے ایمان میں مزید پختگی حاصل ہوتی ہے۔ ایمان میں کمی و بیشی قرآن کی دوسری آیات اور احادیث سے بھی ثابت ہے صحیح بخاری کتاب الایمان میں امام بخاری نے اس مسئلہ کو مدلل طور پر ثابت کیا ہے۔ ف 12 جیسے فرشتوں جنوں اور انسانوں کی فوجیں۔ ابن عباس نے اس کی یہی تفسیر بیان کی ہے (قرطبی) ف 13۔ یعنی وہ جیسے چاہتا ہے ہے ان کا انتظام فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے دوسری پر غالب کرت اہے۔ مطل یہ ہے کہ مسلمانوں کو جو فتح و کامیابی نصیب ہوئی ہے یا ہو رہی ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے۔ اس میں خود مسلمانوں کا کمال نہیں ہے۔