سورة الزخرف - آیت 32

أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ ۚ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُم مَّعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّيَتَّخِذَ بَعْضُهُم بَعْضًا سُخْرِيًّا ۗ وَرَحْمَتُ رَبِّكَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

کیا آپ کے رب کی رحمت (١٤) کو لوگوں میں یہ کفار تقسیم کریں گے، ہم نے ہی دنیاوی زندگی میں ان کی روزی ان کے درمیان تقسیم کی ہے، اور ان میں سے بعض کو بعض پر کئی درجہ رفعت و بلندی دی ہے، تاکہ ان میں سے بعض بعض کو اپنی ماتحتی میں رکھے، اور آپ کے رب کی رحمت و مہربانی اس مال سے زیادہ بہتر ہے جسے وہ جمع کرتے ہیں

تفسیر اشرف الحواشی - محمد عبدہ الفلاح

ف 6 یعنی مال و دولت، جسمانی اور عقلی صلاحیتوں کے اعتبار سے لوگوں کے مختلف درجوں میں ان چیزوں میں سے بعض کو کم اور بعض کو وافر حصہ ملا ہے۔ ف 7 یعنی خدمت لے اور اس طرح کوئی شخص کلی طور پر بے نیاز نہ ہو بلکہ کسی نہ کسی پہلو سے دوسرے کا محتاج رہے۔ یہ درجات کا تفاوت عین فطرت کے مطابق ہے اور دنیا میں رہتے ہوئے اس سے سفر ناممکن ہے۔ ف 8 اس لحاظ سے جسے یہ رحمت ملی وہ تمہارے ان مالداروں سے بہتر ہوا۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں ” اللہ نے روزی دینا کی تو ان کی تجویز پر نہیں بانٹی، پیغمبری کیونکر دے ان کی تجویز پر (موضح)۔