سورة الأنبياء - آیت 22

لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا ۚ فَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی

اگر آسمان و زمین میں اللہ کے سوا کئی معبود ہوتے تو دونوں تباہ ہوجاتے، پس عرش والا اللہ ان تمام نقائص سے پاک ہے جنہیں وہ اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔

تفسیر اشرف الہواشی - محمد عبدہ لفلاح

ف 13 کیونکہ ہر خدا اپنی جگہ قادرو خود مختار ہوتا تو ان میں ہمیشہ کشمکش کا بازار گرم رہتا ہے جیسے فرمایا İ ‌وَلَعَلَا بَعۡضُهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖۚĬ (مومنون :91) اور کوئی چیز اپنی مرتب شکل میں بن سکتی نہ چل سکتی۔ توحید پر یہ دلیل سادہ بھی ہے اور ناقابل تردید بھی متکلمین نے اس کا نام برہان تمانع رکھا ہے مگر اس کی سادہ تشریح بھی ہو سکتی ہے۔ (کبیر)