سورة الكهف - آیت 40

فَعَسَىٰ رَبِّي أَن يُؤْتِيَنِ خَيْرًا مِّن جَنَّتِكَ وَيُرْسِلَ عَلَيْهَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَاءِ فَتُصْبِحَ صَعِيدًا زَلَقًا

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

تو امید ہے کہ میرا رب مجھے تمہارے باغ سے بہتر باغ دے گا، اور تمہارے باغ پر کوئی آسمانی عذاب بھیج دے گا، پس وہ بے پودے والا چکنا میدان ہوجائے گا۔

تفسیر اشرف الحواشی - محمد عبدہ الفلاح

ف 5 دنیا میں آخرت میں یاد دونوں میں ف 6 یعنی غرور تکبر کی راہ سے اپنے نفس کی پیروی نہ کرتا بلکہ بھائی کی بات مان لیتا اپنی ساری دولت اور شان و شوکت اللہ ہی کا عطیہ سمجھتا اور مال میں جو دوسروں کے حقوق رکھے گئے ہیں انہیں ادا کرتا۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں : آخر اس کے باغ کا وہی حال ہوا جو اس کے نیک بھائی کی زبان سے نکلا تھا کہ ات کو آگ لگ گئی آسمان سے سب جل کر راکھ کا ڈھیر ہوگیا۔ مال خرچ کیا تھا دولت بڑھانے کو وہ اصل بھی کھو بیٹھا۔ (موضح) ف 7 یہاں یہ مثال ختم ہوئی۔ اس سے مقصود کفار مکہ کو سمجھانا ہے کہ غریبوں کو حقیر نہیں سمجھنا چاہئے۔ اصلی چیز اللہ پر ایمان اور اس کی راہ میں اخلاص ہے۔