سورة التوبہ - آیت 127

وَإِذَا مَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ نَّظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ هَلْ يَرَاكُم مِّنْ أَحَدٍ ثُمَّ انصَرَفُوا ۚ صَرَفَ اللَّهُ قُلُوبَهُم بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُونَ

ترجمہ تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اور جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو ایک دوسرے کی طرف دیکھتے (١٠١) ہیں، اور اشاروں میں پوچھتے ہیں کہ کیا کوئی تمہیں دیکھ رہا ہے، پھر لوٹ جاتے ہیں، اللہ نے ان کے دلوں کو حق قبول کرنے سے پھیر دیا ہے اس لیے کہ وہ قطعی طور پر بے سمجھ لوگ ہیں۔

تفسیر اشرف الحواشی - محمد عبدہ الفلاح

ف ٣۔ بھاگ نکلنے کی نیت سے یا انکار اور ٹھٹھے کی نیت سے (کبیر)۔ ف ٤۔ یا اللہ ان کے دلوں کو پھیر دے۔ یہ ان کے حق میں بدعا ہے۔ ف ٥۔ تب ہی وہ وپنی فلاح سے غافل اور بھلائی سے بے فکر ہیں۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں : کلام اللہ میں جہاں منافقوں کے عیب آتے وہ آپس میں دیکھتے کہ ہم کو کسی نے پرکھا نہ ہو پھر جلدی سے اتھ جاتے۔ (موضح)۔