سورة الحاقة - آیت 6

وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

رہے عاد تو وہ سناٹے کی سخت آندھی [٥] سے ہلاک کیے گئے

تفسیر القرآن کریم (تفسیر عبدالسلام بھٹوی) - حافظ عبدالسلام بن محمد

وَ اَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا....: ’’رِيْحٌ‘‘ ہوا، ’’ صَرْصَرٍ ‘‘ ’’صِرٌّ‘‘ سے مشتق ہے، جس کا معنی سخت ٹھنڈک اور تیزی ہے، یعنی سخت ٹھنڈی اور تند آندھی، یا یہ ’’صَرْصَرَ يُصَرْصِرُ صَرْصَرَةً ‘‘ (چیخنا، سخت آواز نکالنا) سے مشتق ہے، یعنی سخت آواز والی آندھی۔ ’’ عَاتِيَةٍ ‘‘ ’’ عَتَا يَعْتُوْ عُتُوًّا‘‘ (ن) قابو سے باہر ہونا، سرکشی کرنا۔ یعنی وہ ہوا اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی بھی قابو کرنے والے کے قابو سے باہر تھی۔