سورة المآئدہ - آیت 76

قُلْ أَتَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا ۚ وَاللَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

آپ ان سے کہئے : کیا تم اللہ کو چھوڑ کر اس کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہارے نقصان کا کچھ اختیار رکھتا [١٢٢] ہے اور نہ نفع کا۔ اور اللہ ہی سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے

تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان السلفی رحمہ اللہ

103۔ یہ عقیدہ نصاری کے بطلان کی ایک دوسری دلیل ہے۔ آیت میں ما اسم موصول ہے، جس سے مراد عیسیٰ اور ام عیسیٰ ہیں کہ یہ دونوں نہ کچھ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان، سب کچھ کا اختیار صرف اللہ کو حاصل ہے۔ اگر مخلوق کو کوئی قدرت حاصل ہے تو اللہ کی دی ہوئی ہے، اس لیے عیسیٰ اور ام عیسیٰ بھی کسی چیز کے مالک نہیں ہیں۔ اور اسی حقیقت کو واضح کرنے کے لیے قرآن میں من کے بجائے ما استعمال کیا گیا ہے جو غیر ذی روح کے لیے استعمال ہوتا ہے، یعنی ان دونوں کی حیثیت دیگر تمام اشیاء کی مانند ہے جن کے اندر کوئی قدرت نہیں ہوتی ہے۔ صاحب فتح البیان نے لکھا ہے کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) کی یہ حیثیت تھی (جو نبی تھے) تو اولیاء کی کیا حیثیت ہوسکتی ہے ظاہر ہے