سورة الملك - آیت 30

قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَصْبَحَ مَاؤُكُمْ غَوْرًا فَمَن يَأْتِيكُم بِمَاءٍ مَّعِينٍ

ترجمہ تیسیرالقرآن - مولانا عبد الرحمن کیلانی

آپ ان سے پوچھئے : ''بھلا دیکھو! اگر تمہارا پانی گہرائیوں میں اتر جائے تو کون ہے جو تمہیں نتھرا [٣٣] پانی لا کر دے گا ؟''

تفسیرتیسیرارحمٰن - محمد لقمان سلفی

(30) آخری آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (ﷺ) کی زبانی مشرکین کو یہ بات بتائی کہ تمام نعمتیں بندوں کو اسی ذات واحد کی طرف سے ملی ہیں، بالخصوص پانی جس کے ذریعہ اللہ نے تمام زندہ چیزوں کو پیدا کیا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اس پانی کو زمین کی آخری تہ میں پہنچادے، تو اس کے سوا کوئی ہے جو تمہیں صاف و شفاف پانی عطا کرے؟ جو اب معلوم ہے کہ کوئی نہیں ہے اور جب بات ایسی ہے تو پھر اس اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو کیوں پوجتے ہو، کیوں دوسروں کو اس کا شریک بناتے ہو؟ وباللہ التوفیق