سورة آل عمران - آیت 200

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اے ایمان والو! صبر کرو، پامردی [٢٠١] دکھلاؤ اور ہر وقت [٢٠٢] جہاد کے لیے تیار رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو، توقع ہے اس طرح تم کامیابی حاصل کرسکو گے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

آخری آیت میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو تین باتوں کی نصیحت کی ہے جو ہر طرح کی سعادت و نیک بختی کا ذریعہ ہیں۔ پہلی نصیحت صبر کی ہے، کہ بندہ مومن گناہوں سے اجتناب کرے، مصائب پر صبر کرے، اور ان اوامر کے بجا لانے اور نواہی سے اجتناب میں صبر کرے جن کا اللہ نے حکم دیا ہے، اور صبر کی اس صفت پر مداومت برتے۔ دوسری نصیحت یہ ہے کہ اللہ کے دین اور مسلمانوں سے دفاع کے لیے مورچہ بند رہے اور تیسری نصیحت یہ ہے کہ ہر حال میں اللہ سے ڈرتا رہے۔ آیت کے آخر میں اللہ نے فرمایا کہ کامیابی اور فلاح دارین کا یہی ذریعہ ہے، احادیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب تہجد کے لیے رات کو اٹھتے تو سورۃ آل عمران کی آخری دس آیتیں پڑھتے تھے۔ بخاری و مسلم نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ میں ایک رات اپنی خالہ میمونہ کے پاس سویا، جب رات کا ایک تہائی حصہ رہ گیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھ کر بیٹھ گئے، اور آسمان کی طرف دیکھ کر یہ آیت پڑھی، ان فی خلق السماوات والارض واختلاف اللیل والنہار لایات لاولی الباب۔ پھر وضو کیا اور گیارہ رکعت نماز پڑھی، ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے آل عمران کی دس آیتیں پڑھیں، حافظ ابن مردویہ نے بھی ابن عباس (رض) سے یہی حدیث روایت کی ہے۔