سورة المؤمنون - آیت 45

ثُمَّ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ وَأَخَاهُ هَارُونَ بِآيَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُّبِينٍ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

پھر ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو معجزے اور روشن دلیل [٤٧] دے کر بھیجا

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

١١۔ ان اقوام گزشتہ کے دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو نو نشانیاں دے کر جن میں عصائے موسیٰ کی حیثیت برہان قاطع کی تھی، فرعون اور فرعونیوں کو دعوت توحید دینے کے لیے بھیجا، لیکن کبر و نخوت میں آکر ان لوگوں نے موسیٰ و ہارون کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیا، اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ ان کا جبر و استبداد حد سے تجاوز کر گیا تھا، انہوں نے کہا کہ کیا ہم اپنے ہی جیسے ود انسانوں پر ایمان لے آئیں اور وہ بھی ایسے دو انسان جن کی قوم ہشہت ہماری تابع فرمان رہی ہے۔ چنانچہ انہوں نے دونوں نبیوں کو جھٹلا دیا اور ان کی دعوت توحید کو ٹھکرا دیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں دریا برد کردیا۔ آیت (٤٩) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فرعون اور فرعونیوں کی ہلاکت اور ان کی غلامی سے بنی اسرائیل کی آزادی کے بعد ہم نے موسیٰ کو تورات عطا کی، تاکہ بنی اسرائیل اس پر عمل کر کے رضائے الہی کی راہ پر گامزن رہیں۔