سورة المؤمنون - آیت 26

قَالَ رَبِّ انصُرْنِي بِمَا كَذَّبُونِ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

نوح نے دعا کی : ''اے میرے پروردگار! ان لوگوں نے جو مجھے جھٹلایا ہے تو اس پر تو میری [٣١] مدد فرما''

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

٨۔ نوح (علیہ السلام) ساڑھے نو سو سال تک تبلیغ کرتے رہے اور اس راہ کی ہر اذیت برداشت کرتے رہے، لیکن ان کی قوم کی سرکشی بڑھتی گئی بالاخر انہوں نے اپنے رب سے مدد مانگی اور کہا اے میرے رب ! اب تو میری مدد کر اور ان کی جانب سے میری مسلسل تکذیب کی وجہ سے انہیں ہلاک کردے، تو اللہ تعالیٰ نے ان سے کہا کہ آپ میری نگرانی میں اور میری تعلیمات کے مطابق کشتی بنایئے، اور جب تنور سے پانی ابلنے لگے تو تمام حیوانات کے مذکر و مونث جوڑے اور نباتات اور پھلوں کے درخت اور کشتی میں ڈال لیجیے اور اپنے اہل و عیال کو سوار کرلیجیے، سوائے ان کے جن کا ہلاک ہوجانا مقدر ہوچکا ہے (جیسے ان کا بیٹا اور ان کی بیوی) اور عذاب دیکھنے کے بعد آپ کو ان ظالموں پر رحم نہ آجائے اور سوچنے نہ لگئے کہ اب اگر عذاب ٹل جائے تو شاید یہ لوگ ایمان لے آئیں، اس لیے کہ میرا یہ فیصلہ ہے کہ انہیں کفر و شرک کی حالت میں ہی ڈوب جانا ہے، اور جب آپ اور دیگر اہل ایمان کشتی پر سوار ہوجائیں تو اللہ کا شکر بجا لایئے کہ اس نے آپ کو ظالموں سے نجات دے دی اور گریہ و زاری کے ساتھ دعا کیجے کہ اے میرے رب ! مجھے کسی مبارک جگہ اتار دے۔ آیت (٢٠) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مومنوں کی نجات اور کافروں کی ہلاکت میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں اور ہم اپنے بندوں کو خیر و شر کے ذڑیعہ اس لیے آزماتے ہیں تاکہ کافر و مومن اور عاصی و مطیع کا فرق واضح ہوجائے۔