سورة الأنبياء - آیت 107

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور ہم نے آپ کو تمام دنیا والوں کے لئے رحمت [٩٥] بنا کر بھیجا ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٤٠) اس آیت کریمہ میں نبی کریم کی تعریف بیان کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے یعنی جس دین کے ساتھ وہ دنیا میں مبعوث ہوئے وہ جن و انس کے لیے سراپا رحمت ہے، دنیا و آخرت کی سعادت اسی کو قبول کرلینے میں ہے، اس لیے بطور مبالغہ نبی کریم کو (رحمت) کہا گیا ہے۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ۔ امام مسلم نے ابو ہریرہ سے روایت کی ہے، نبی کریم سے کہا گیا کہ آپ مشرکوں پر بددعا کردیجیے، تو آپ نے فرمایا : میں لعنت بھیجنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا ہوں، میں تو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اسی لیے اس آیت کی تفسیر میں ابن عباس سے مروی ہے کہ نبی کریم کی بعثت کے بعد جو ایمان لے آیا، اس کے لیے دنیا و آخرت دونوں جہان میں رحمت تمام ہوگئی، اور جو ایمان نہیں لایا وہ دنیاوی عذاب سے محفوظ ہوگیا جو گزشتہ قوموں پر مسخ صورت زمین کے دھنس جانے اور پتھروں کی بارش کی شکل میں آتا رہا ہے۔