سورة طه - آیت 7

وَإِن تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَإِنَّهُ يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اگر آپ بلند آواز سے بات کریں [٦] ہیں تو وہ تو چپکے سے کہی ہوئی بات بلکہ اس سے بھی خفی تر بات کو جانتا ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٤) یعنی اگر آپ بآواز بلند اللہ کو یاد کرتے ہیں اور دعا و مناجات کرتے ہیں، تو جان لیجیے کہ اللہ اس سے بے نیاز ہے، کیونکہ وہ تو چھپے ہوئے رازوں کو جانتا ہے، بلکہ رازہائے سربستہ سے بھی زیادہ مخفی باتوں کو جانتا ہے جنہیں ابن آدم نہیں جانتا ہے جن کا علم صرف علام الغیوب کو ہوتا ہے۔ شوکانی کہتے ہیں کہ اس میں اونچی آواز سے ذکر الہی کی ممانعت پائی جاتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاعراف آیت (٢٠٥) میں فرمایا ہے : (واذکر ربک فی نفسک تضرعا و خیفۃ) آپ اپنے رب کو اپنے دل میں عاجزی اور خوف کے ساتھ یاد کیجیے، اور صاحب فتح البیان لکھتے ہیں کہ اس آیت میں گویا اس پر تنبیہ کی گئی ہے کہ بلند آواز سے ذکر اکہی اور دعا اللہ تعالیٰ کو سنانے کے لیے نہیں ہونی چاہیے، بلکہ مقصود ذکر الہی کو دل میں راسخ کرنا، وسوسوں کو دور کر کے ذہن میں یکسوئی پیدا کرنا ہو، اور غایت درجہ کا اظہار عجز و تواضع ہو۔ آیت (٨) میں فرمایا گیا کہ مذکورہ بالا طریقہ عبادت کا مستحق وہ اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، تمام پاکیزہ ناموں کا صرف وہی سزاوار ہے، جن کی تعداد کے بارے میں امام نووی نے علما کا اتفاق کیا ہے کہ اللہ کے ایک ہزار نام ہیں۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۃ الاعراف آیت (١٨٠) کی تفسیر۔