سورة مريم - آیت 16

وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّا

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور (اے پیغمبر!) اس کتاب میں مریم کا حال بھی ذکر کیجئے۔ جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر مشرقی جانب گوشہ نشین ہوگئی تھی۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٨) چونکہ یحی (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش میں ایک گونہ مشابہت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یحی (علیہ السلام) کو نہایت بوڑھے باپ اور بالکل بانجھ ماں سے پیدا کیا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر باپ کے پیدا کیا اور دونوں کی پیدائش میں اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کا اظہار ہے، اسی لیے سورۃ آل عمران، اس سورت اور اسوہ الانبیا میں دونوں کا ذکر ایک دوسرے کے بعد ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم کو مخاطب کر کے فرمایا کہ آپ اس قرآن میں مریم کا واقعہ پڑھیئے اور لوگوں کو سنیائے۔ مریم بنت عمران داؤد (علیہ السلام) کی نسل سے بنی اسرائیل کے ایک دیندار اور شریف گھرانے کی لڑکی تھیں، ان کی ولادت کا قصہ سورۃ آل عمران میں گزر چکا ہے۔ پیدا ہونے کے بعد انہوں نے اپنے خالو زکریا (علیہ السلام) کے گھر میں پرورش پائی اور ہوش سنبھالنے کے بعد بہت بڑی زاہدہ، عابدہ اور شب زندہ دار بن گئیں، جب اللہ تعالیٰ نے ان کے بطن سے عیسیٰ (علیہ السلام) کو پیدا کرنا چاہا تو مسجد اقصی سے ذرا ہٹ کر مشرق کی جانب چلی گئیں، بعض مفسرین نے کہا ہے کہ وہاں لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو کر گوشہ تنہائی میں بیٹھ کر عبادت کے لیے گئی تھیں، کیس نے کہا ہے کہ ان کو ماہواری آئی تھی اور وہاں پردے میں طہارت حاصل کرنے کے لیے گئی تھیں۔ وہاں جبریل (علیہ السلام) اللہ کے حکم سے ان کے سامنے ایک مکمل آدمی کی شکل میں آئے۔ ابن عباس سے روایت ہے کہ اہل کتاب پر بھی خانہ کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا واجب تھا، لیکن مریم علیہا السلام کے اسی عمل کیو جہ سے انہوں نے جہت مشرق کو اپنا قبلہ بنا لیا اور مطلع آفتاب کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے لگے۔ جب مریم علیہا السلام نے دیکھا کہ ایک اچھا خاصا آدمی ان کے پردے کا لحاظ کیے بغیر ان کے سامنے آگیا ہے، تو ان کے ذہن میں شبہ ہوا کہ کہیں یہ آدمی کسی بری نیت سے تو نہیں آیا ہے۔ اسی لیے اپنی انتہائی عفت و پاکدامنی کے زیر اثر کہنے لگیں کہ اے آدمی ! اگر تجھے اللہ کا خوف ہے تو میں بے حد رحم کرنے والے اللہ کے ذریعہ تجھ سے پناہ مانگتی ہوں، تو میرے قریب نہ آ۔ جبریل (علیہ السلام) نے فورا ان کے دل سے خوف دور کرنے اور حقیقت حال بیان کرنے کے لیے کہا، میں تمہارے اسی رب کا پیغامبر ہوں جس کے ذریعہ تم نے پناہ مانگی ہے، مجھے اسی نے تمہارے پاس بھیجا ہے تاکہ تمہارے گریبان میں پھونک مار کر اللہ کی جانب سے بطور عطیہ ایک لڑکا دیئے جانے کا سبب بنوں جو گناہوں سے پاک ہوگا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ التحریم آیت (١٢) میں فرمایا ہے : (ومریم ابنت عمران التی احصنت فرجھا فنفخنا فیہ من روحنا) اور سورۃ الانبیا آیت (٩١) میں فرمایا ہے : (والتی احصنت فرجھا فنفخنا فیھا من روحنا) دونوں آیتوں میں یہی بتایا گیا ہے کہ اللہ نے اپنی طرف سے بذریعہ وحی ان کے رحم میں عیسیٰ کی روح پھونک دی۔ ایک دوسرا مفہوم یہ بیان کیا گیا ہے کہ میں تمہارے رب کا پیغامبر ہوں اس لیے آیا ہوں تاکہ تمہیں تمہارے بطن سے ایک لڑکا مولود ہونے کی خبر دوں جو گناہوں سے پاک ہوگا۔ ایک قرات میں لیھب لک آیا ہے، یعنی میں تمہارے رب کا پیغامبر ہوں تمہارے پاس یہ خبر لے کر اایا ہوں کہ وہ تمہیں ایک ایسا لڑکا دے گا جو گناہوں سے پاک ہوگا۔