سورة یوسف - آیت 89

قَالَ هَلْ عَلِمْتُم مَّا فَعَلْتُم بِيُوسُفَ وَأَخِيهِ إِذْ أَنتُمْ جَاهِلُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

یوسف نے ان سے پوچھا : پتا ہے تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا جبکہ تم نادان [٨٦] تھے؟''

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٧٦) اپنے کاندان والوں کی غربت و پریشانی اور اپنے باپ کے درد و غم کا حال جان کر یوسف (علیہ السلام) کا دل بھر آیا، اور ان کی آنکھیں نم ہوگئیں، اب قصہ کو مزید طول دینے کی تاب نہ لاسکے، اور اپنے بھائیوں کو اپنی درد بھری داستان یاد دلاتے ہوئے کہا کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی بنیامین کے ساتھ نادانی کی وجہ سے ماضی میں جو ظلم و زیادتی کی تھی کیا وہ تمہیں یاد ہے؟ (یوسف کے ساتھ انہوں نے جو برتاؤ کیا تھا اس کی تفصیل گزر چکی ہے اور ان کے بھائی بنیامین کو ان کے فراق کا غم دیا، اور ہمیشہ ان کے ساتھ حقارت آمیز معاملہ کرتے رہے) یوسف (علیہ السلام) نے اپنے باپ یعقوب کا ذکر نہیں کیا، حالانکہ یوسف کی جدائی سے سب سے زیادہ انہی کو غم پہنچا تھا، مفسرین لکھتے ہیں کہ ان کا ذکر ان کی جلالت قدر کی وجہ سے نہیں کیا، اور اس لیے کہ یوسف کو معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی آزمائش اس لیے ہورہی تھی تاکہ ان کا مقام بلند ہو۔