سورة یوسف - آیت 32

قَالَتْ فَذَٰلِكُنَّ الَّذِي لُمْتُنَّنِي فِيهِ ۖ وَلَقَدْ رَاوَدتُّهُ عَن نَّفْسِهِ فَاسْتَعْصَمَ ۖ وَلَئِن لَّمْ يَفْعَلْ مَا آمُرُهُ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونًا مِّنَ الصَّاغِرِينَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

(زلیخا) کہنے لگی : یہ ہے وہ شخص جس کے بارے میں تم نے مجھے ملامت کی تھی۔[٣١] بیشک میں نے ہی اسے اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی تھی مگر وہ بچ نکلا۔ اور اگر اب بھی اس نے میرا کہنا نہ مانا تو اسے قید کردیا جائے گا اور ذلیل ہوجائے گا

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٣٠) زلیخا نے ان عورتوں سے کہا کہ یہی وہ پیکر حسن ہے جس کے بارے میں تم عورتیں مجھے کو ستی تھیں، اور جب اسے یقین ہوگیا کہ وہ تمام عورتیں یوسف کے حسن سے مسحور ہوگئی ہیں اور اسے معذور سمجھنے لگتی ہیں تو اپنا دل کھول کر ان کے سامنے رکھ دی اور کہا کہ ہاں میں نے اسے ورغلایا تھا، لیکن اس نے قطعی طور پر انکار کردیا ہے، اور ذرا اسی بھی لچک نہیں دکھائی ہے، اس کے بعد اس نے شرم و حیا کی چادر ایک طرف پھینک دی اور عشق و سرمستی کی آخری حدوں کو چھوتی ہوئی کہا کہ میرا اس سے جو مطالبہ ہے اگر اس نے پورا نہیں کیا تو اسے جیل میں ڈال دیا جائے گا، اور اسے ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔