سورة ھود - آیت 77
وَلَمَّا جَاءَتْ رُسُلُنَا لُوطًا سِيءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَقَالَ هَٰذَا يَوْمٌ عَصِيبٌ
ترجمہ تیسیرالقرآن - مولانا عبد الرحمن کیلانی
پھر جب ہمارے فرستادہ (فرشتے) لوط کے پاس آئے تو انھیں ان کا آنا ناگوار محسوس ہوا اور دل گھٹ گیا اور کہنے لگے۔ یہ تو مصیبت [٨٧] کا دن ہے
تفسیرتیسیرارحمٰن - محمد لقمان سلفی
(63) جب وہ فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) سے رخصت ہو کر لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے تو وہ خوبصورت کم عمر نوجوانوں کی شکل میں تھے، لوط انہیں اس حال میں دیکھ کر پریشان خاطر ہوئے، اور دل میں سوچا کہ آج کا دن تو بڑا ہی مشکل دن ہے، میں ان مہمانوں کو بدمعاشوں سے کیسے بچا سکوں گا؟