سورة ھود - آیت 18

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا ۚ أُولَٰئِكَ يُعْرَضُونَ عَلَىٰ رَبِّهِمْ وَيَقُولُ الْأَشْهَادُ هَٰؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَىٰ رَبِّهِمْ ۚ أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ افترا [٢٢] کرے۔ ایسے لوگ اپنے پروردگار کے سامنے پیش کئے جائیں گے اور گواہ واہی [٢٢۔ الف] دیں گے کہ یہی لوگ تھے جو اپنے پروردگار پر جھوٹ باندھتے تھے۔ دیکھو! ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١٦) ان لوگوں سے بڑھ کر اللہ کے نزدیک ظالم و مجرم کون ہوسکتا ہے جو افترا پردازی کرتے ہوئے کہیں کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں، اور ان کے تراشتے ہوئے بت اللہ کے شریک ہیں، اور قرآن اللہ کا کلام نہیں ہے۔ قیامت کے دن ایسے لوگ نہایت ذلت و رسوائی کے ساتھ اللہ کے سامنے پیش کئے جائیں گے، اور فرشتے، انبیائے کرام، دعاۃ و مبلغین اور خود ان مجرموں کے اعضاء و جوارح گواہی دیں گے کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کے بارے میں افترا پردازی کی تھی، تو اللہ تعالیٰ کہے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو، جو لوگوں کو اللہ کی سیدھی راہ سے روکنے کے لیے اس میں طرح طرح کے شبہات پیدا کرتے تھے، اور وہ ایسا کیوں نہ کرتے انہیں تو آخرت پر ایمان تھا ہی نہیں، کیونکہ جو آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہی سیدھی راہ اختیار کرتا ہے، اور دوسروں کو بھی اس پر چلنے کی دعوت دیتا ہے۔ آیت (٢٠) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ اس بات سے عاجز نہیں ہے کہ ان افترا پرداز کافروں اور مشرکوں کو قیامت آنے سے پہلے دنیا میں ہی عذاب دے، اور ان کا کوئی یارو مددگار نہ ہو جو اس عذاب کو ان سے ٹال سکے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دنیا میں انہیں اس لیے عذاب نہیں دیا گیا تاکہ آخرت میں انہیں دوگنا عذاب دیا جائے، اس لیے کہ دین اسلام سے ان کی نفرت و عداوت اس قدر شدید تھی کہ نہ حق بات سننے کی تاب لاتے تھے اور نہ اللہ کی آیتوں میں غوروفکر سے کام لیتے تھے۔