سورة یونس - آیت 96

إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

جن لوگوں پر آپ کے پروردگار کا حکم (عذاب) ثابت ہوچکا ہے وہ [١٠٥] ایمان نہیں لائیں گے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٦٢) اللہ تعالیٰ اپنے علم ازلی کے مطابق ہر انسان کے بارے میں جانتا ہے کہ وہ اپنے اختیار و ارادہ سے کافر ہوگا یا مومن، خیر کی راہ اختیار کرے گا یا شر کی، اور اس علم کی بنیاد پر اس نے ہر شخص کی تقدیر میں لکھ دیا ہے کہ وہ ایمان لائے گا یا کفر کی راہ اختیار کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کے اسی علم ازلی کو اس آیت کریمہ میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن کی قسمت میں لکھ دیا ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے وہ کسی حال میں بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ آیت (٩٧) میں اسی مضمون کی مزید تاکید آئی ہے کہ جن کی تقدیر میں لکھ دیا گیا ہے کہ وہ جہنمی ہوں گے، ان کے سامنے اللہ کی تمام نشانیاں بھی آجائیں گی تو بھی وہ ایمان نہیں لائیں گے، البتہ جب وہ اللہ کا عذاب اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تب ایمان لائیں گے، جیسا کہ فرعون نے جب اپنے آپ کو ڈوبتا دیکھا تو کہا کہ میں موسیٰ و ہارون کے رب پر ایمان لے آیا، تو مشرکین مکہ بھی جب تک اللہ کا عذاب دیکھ نہیں لیں گے ایمان نہیں لائیں گے، لیکن اس وقت کا ایمان ان کے کام نہیں آئے گا۔