سورة البقرة - آیت 130

وَمَن يَرْغَبُ عَن مِّلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا مَن سَفِهَ نَفْسَهُ ۚ وَلَقَدِ اصْطَفَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا ۖ وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور ابراہیم کے دین [١٦٣] سے تو وہی نفرت کرسکتا ہے جس نے خود اپنے آپ کو احمق بنا لیا ہو۔ بے شک ہم نے ابراہیم کو دنیا میں (اپنے کام کے لیے) چن لیا اور آخرت میں بھی وہ صالح لوگوں میں سے ہوں گے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

192: اس آیت میں اہل کتاب اور مشرکین عرب کی تردید ہے جنہوں نے ملت ابراہیمی کو چھوڑ کر جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آنے کے بعد دین اسلام اور عقیدہ توحید میں محصور ہوگئی، اپنی اپنی ہوائے نفس کی اتباع کی ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے رب کی وحدانیت کا برملا اعلان کیا، اس کے ساتھ کسی کو ایک لمحہ کے لیے بھی رشریک نہ بنایا، اور پوری قوم کی مخالفت مول لی، حتی کہ اپنے باپ سے براءت کا اعلان کیا، اور اس عقیدہ کی خاطر بے دھڑک آگ میں کود گئے۔ یہی ہے ملت ابراہیمی، اسی کی وصیت ابراہیم نے اپنے بیٹوں اور اپنے پوتے یعقوب کو کی، اور اسی ملت ابراہیمی کی دعوت و تبلیغ کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب اور کفار سب کو خطاب کر کے کہا کہ اس سے بڑھ کر اپنے حق میں ظلم کرنے والا اور کون ہوگا، جو اس ملت ابراہیمی کو قبول نہیں کرے گا، اور اس کی مخالفت کرے گا، وہی ابراہیم جسے اللہ نے بچپن سے دعوت توحید کے لیے چن لیا تھا، یہاں تک کہ اپنا خلیل بنا لیا اور آخرت میں وہ ان نیک بخت روحوں میں سے ہوں گے جنہیں اللہ اعلی مقام عطا فرمائے گا۔