سورة الانفال - آیت 19

إِن تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جَاءَكُمُ الْفَتْحُ ۖ وَإِن تَنتَهُوا فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَإِن تَعُودُوا نَعُدْ وَلَن تُغْنِيَ عَنكُمْ فِئَتُكُمْ شَيْئًا وَلَوْ كَثُرَتْ وَأَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

(مکہ والو)! اگر تم فیصلہ ہی [١٨] چاہتے تھے تو وہ اب تمہارے پاس آچکا۔ اب اگر تم باز آجاؤ تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر پھر پہلے سے کام کرو گے تو ہم بھی ایسا ہی کریں گے اور تمہاری جمعیت تمہارے کچھ بھی کام نہ آسکے گی، خواہ وہ کتنی زیادہ ہو اور اللہ تو یقینا ایمان والوں کے ساتھ ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(13) امام احمد نسائی اور حاکم وغیر ہم نے عبد اللہ بن ثعلبہ سے روایت کی ہے کہ ابو جہل نے میدان بدر میں کہا ہے کہ اے اللہ ! ہم میں جو رحم کو کا ٹنے والا اور ایسی بات لا نے والا ہے جسے لوگ نہیں جانتے اسے تو آج کے دن ہلا کر یئے تو اللہ تعالیٰ نے اس کی دعا سن لی اور اسے اس کی فوج کو ہلاد کردیا، اس لیے کہ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مکہ کے دیگر مسلما نوں کے ساتھ صلہ رحمی کا بر تاؤ نہیں کیا تھا اور اسی نے اللہ کو چھوڑ کر بتوں کی پرستش کی تھی، ابرا ہیمی میں ایک نئی بات تھی، اس آیت میں ابو جہل کی اس دعا کی طرف اللہ نے اشارہ کیا ہے تم نے فیصلہ کن بات کی دعا کی تھی تو لو اللہ کا فیصلہ آگیا۔ اس کے بعد اللہ نے فرمایا کہا اگر تم وشرک اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دشمنی سے باز آجاؤ گے تو یہ تمہارے لیے بہتر ہوگا۔ اور اگر تم ان سے دوبارہ جنگ کروگے تو ہم دوبارہ ان کی مدد کریں گے اور تمہاری کثرت تمہیں کوئی کام نہ آئے کی، اس لیے کہ اللہ مومنوں کے ساتھ ہے۔