سورة المؤمنون - آیت 45

ثُمَّ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ وَأَخَاهُ هَارُونَ بِآيَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُّبِينٍ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

پھر ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو معجزے اور روشن دلیل [٤٧] دے کر بھیجا

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٤٧] سلطان بمعنی غلیہ، قوت، اختیار (منجد، مقائیس اللغۃ) اور بمعنی فرمان شاہی (منجد) یعنی اتھارٹی یا اتھارٹی لیٹر Letter Athority وہ اختیار یا اختیار نامہ جو کسی حاکم اعلیٰ سے اس کے نائب کو ملا ہو۔ (اور سلطان بمعنی بادشاہ اس کا کنائی اور مجازی معنی ہے لغوی نہیں۔ نہ ہی قرآن نے اس لفظ کو کسی بھی جگہ ان معنوں میں استعمال کیا ہے) اور اس مقام پر سلطان مبین سے مراد یا ان دونوں نبیوں کی نبوت ہے یا وحی الٰہی۔ اور آیات سے مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیئے گئے صرف عصا اور یدبیضا ہی نہیں بلکہ دوسرے معجزات بھی کیونکہ یہاں جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے تثنیہ کا نہیں۔ نیز آیات سے مراد احکام الٰہی بھی ہوسکتے ہیں۔ جو فرعون کے پاس جاتے وقت انھیں دیئے گئے تھے۔ اور جن سے یہ معلوم ہوجاتا تھا کہ ان کی۔۔ پر کوئی مافوق الفطرت قوت موجود ہے۔