سورة المؤمنون - آیت 26

قَالَ رَبِّ انصُرْنِي بِمَا كَذَّبُونِ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

نوح نے دعا کی : ''اے میرے پروردگار! ان لوگوں نے جو مجھے جھٹلایا ہے تو اس پر تو میری [٣١] مدد فرما''

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٣١] حضرت نوح (علیہ السلام) کا زمانہ تبلیغ غالباً تمام انبیاء سے زیادہ ہے جو قرآن کی صراحت کے مطابق ساڑھے نو سو سال ہے۔ اس طویل عرصہ میں آپ اپنی قوم سے ناروا باتیں اور طعنے وغیرہ سنتے اور برداشت کرتے رہے۔ اتنی طویل مدت میں بہت ہی کم لوگ ایمان لائے۔ دوسروں کا کیا ذکر آپ کی بیوی اور ایک بیٹا بھی آپ کے مقابلہ میں کافروں کا ساتھ رہے تھے۔ حضرت نوح کو یہ یقین ہوگیا کہ اب جو کافر موجود ہیں وہ اس قدر ضدی اور ہٹ دھرم واقع ہوئے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی دعوت حق کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہوگا۔ بس یہ لوگ صرف حضرت نوح کی اذیت اور ذہنی کوفت کا باعث بن رہے تھے۔ جب ان کافروں نے آپ کو اذیت دینے میں انتہا کردی تو اس وقت آپ نے دعا کی کہ یا اللہ ! یہ قوم مجھ پر غالب آگئی ہے اب تو ہی میری مدد فرما اور ان سے اس ظلم کا بدلہ لے جو انہوں نے اتنی طویل مدت مجھ پر ڈھایا ہے۔