سورة الحج - آیت 46

أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَا أَوْ آذَانٌ يَسْمَعُونَ بِهَا ۖ فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَٰكِن تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ ان کے دل ایسے ہوجاتے جو کچھ سمجھتے سوچتے اور کان ایسے جن سے وہ کچھ سن سکتے۔ بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، اندھے تو وہ دل [٧٤] ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٧٤] یعنی ان تباہ شدہ بستیوں سے جو ان کے راستہ میں پڑتی ہیں یہ لوگ کبھی بھی عبرت حاصل نہیں کرتے۔۔ نہ یہ سوچتے ہیں کہ ان بستیوں کا ایسا انجام کیوں ہوا ؟ مگر یہ باتیں سوچنے کے لئے تو دیدہ بینا چاہئے اور وہ ان میں ہے نہیں۔ عبرت حاصل کرنے کے لئے آنکھ کی بینائی کی ضرورت نہیں دل کی بینائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسے کسی شاعر نے کہا ہے : دل بینا بھی کر خدا سے طلب آنکھ کا نور دل کا نور نہیں یہاں یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ہر مقام پر عقل، فہم، فکر، سوچ کو دل سے متعلق کیا ہے۔ علاوہ ازیں تمام قسم کے جذبات مثلاً محبت، ہمدردی، رحم، اخوت اور اس کے برعکس جذبات مثلاً نفرت، کینہ، بغض حسد سب کا منبع دل کو قرار دیا ہے۔ جبکہ جدید طب کی رو سے کم از کم عقلی، فہم، فکر اور سوچ وغیرہ دل سے نہیں بلکہ دماغ سے تعلق رکھتے ہیں۔ باینہمہ ہر زبان کے محاورہ میں دل ہی کو ان اشیاء کا مرجع قرار دیا جاتا ہے۔ جیسے مذکورہ بالا شعر میں بھی ''دل بینا'' استعمال ہوا ہے یا مثلاً: ss یہی جی میں آئی کہ گھر سے نکل ss ٹہلتا ٹہلتا ذرا باغ چل اس شعر سے بھی واضح ہوتا ہے کہ ارادہ سوچ کے بعد پیدا ہوتا ہے جیسے دماغ کے بجائے دل سے منسوب کیا گیا ہے اور قرآن لوگوں کے اور بالخصوص قریش کے محاورہ کے مطابق نازل ہوا ہے۔ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ بات ہے کہ موجودہ نظریہ قابل تغیر و تبدل ہے اور عین ممکن ہے کہ اس تحقیق کے بعد نئی تحقیق کے بعد ان تمام اشیاء کا اصل مرکز دماغ کے بجائے دل ہی کو قرار دیا جائے اور دماغ کی تمام تر فکر اور سوچ بھی دل کے خیالات اور جذبات کے تابع ہو۔ لہذا ہمیں ہر وقت یہ بات ملحوظ رکھنی چاہئے کہ بات اسی ہستی کی سب سے زیادہ صحیح ہوسکتی ہے جو خود ان اشیاء کی خالق اور ہر طرح کے قلبی واردات سے پوری طرح واقف ہے۔