سورة الأنبياء - آیت 37

خُلِقَ الْإِنسَانُ مِنْ عَجَلٍ ۚ سَأُرِيكُمْ آيَاتِي فَلَا تَسْتَعْجِلُونِ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

انسان جلد باز مخلوق ہے عنقریب میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھلا دوں گا لہذا جلدی کا مطالبہ [٣٥] نہ کرو۔

تفسیرتیسیرالقرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی

[٣٥] یعنی جلد بازی انسان کی سرشت میں داخل ہے۔ وہ چاہتا یہ ہے کہ جو خواہش اس کے دل میں پیدا ہوئی ہے وہ جلد از جلد وقوع پذیر ہوجائے۔ خواہ یہ خواہش اچھی ہو یا بری۔ اس آیت میں چونکہ انسان کی فطرت کا ذکر ہوا ہے۔ لہذا اس آیت کے مخاطب مسلمان بھی ہوسکتے ہیں اور کافر بھی۔ بات یہ تھی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعوت اسلام کے سلسلہ میں قرآن میں مذکور وعید سنائی کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرو گے، ان کا مذاق اڑاؤ گے یا یہ راستہ روکو گے تو تم پر اللہ کا عذاب آئے گا۔ جیسا کہ سابقہ اقوام پر آچکا ہے۔ اب کافر یہ سوچتے تھے کہ اس دعوت کا علی الاعلان انکار بھی کر رہے ہیں اور صرف انکار ہی نہیں ان مسلمانوں پر سختیاں بھی کر رہے ہیں۔ اور اتنی مدت گزر چکی ہے تو ہمارا تو بال بھی بیکا نہیں ہوا۔ لہذا اب وہ بے باک ہو کر کہنے لگے کہ یہ روز روز کی تکرار چھوڑو اور جس عذاب کی دھمکی دے رہے ہو وہ لے کیوں نہیں آتے؟ اور ممکن ہے کہ بعض مسلمانوں کو بھی یہ خیال آتا ہو کہ ان ظالموں پر اگر فوراً عذاب آجائے تو کیا ہی اچھا ہو۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کہ ہر کام کا میرے ہاں ایک اندازہ مقرر ہے اور وقت معین ہے۔ لہذا اپنے وقت تمہیں ایسی سب نشانیاں دکھلا دی جائیں گی اور ان نشانیوں کے وقوع پذیر ہونے کی داغ بیل آپ کے واقعہ ہجرت سے ہی پڑگئی تھی۔