سورة مريم - آیت 22

فَحَمَلَتْهُ فَانتَبَذَتْ بِهِ مَكَانًا قَصِيًّا

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

چنانچہ مریم کو اس [٢٣] بچے کا حمل ٹھہر گیا اور وہ اس حالت میں ایک دور کے مکان میں علیحدہ جا بیٹھیں

تفسیر تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمٰن کیلانی

[٢٣] سیدہ مریم میں روح جبرئیل نے پھونکی تھی یا اللہ تعالیٰ نے ؟ روایات میں ہے کہ یہ کہہ کر سیدنا جبریل علیہ السلام نے سیدہ مریم کی قمیص کے گریبان میں روح پھونکی جسے سورۃ تحریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا : ﴿فَنَفَخْنَا فِیْہِ مِنْ رُّوْحِنَا ﴾ یعنی یہ روح ہم نے پھونکی تھی۔ اسی سے یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ جبریل نے یہ کیوں کہا تھا ’’تاکہ میں تجھے ایک پاکیزہ لڑکا عطا کروں‘‘ اس نفخہ جبریل یا نفخہ الٰہی سے سیدہ مریم کو حمل قرار پا گیا۔ اسی وجہ سے آپ کو روح اللہ کہتے ہیں۔ حمل کی وجہ سے سیدہ مریم کا بیت المقدس سے چلے جانا :۔ جب آپ حاملہ ہوگئیں تو اب شرم کے مارے وہاں رہنا گوارا نہ کیا اور آپ بیت المقدس کا حجرہ چھوڑ کر دور کسی مقام پر چلی گئیں۔ کہتے ہیں کہ یہ مقام بیت اللحم تھا جو وہاں سے تقریبا آٹھ میل دور ہے۔