سورة الإسراء - آیت 5

فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ أُولَاهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَّنَا أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ فَجَاسُوا خِلَالَ الدِّيَارِ ۚ وَكَانَ وَعْدًا مَّفْعُولًا

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

پھر جب ہمارا پہلا وعدہ آگیا تو اے بنی اسرائیل! ہم نے تمہارے مقابلے میں اپنے بڑے جنگ جو بندے لاکھڑے کئے جو تمہارے شہروں کے اندر گھس (کر دور تک پھیل) گئے۔ یہ (اللہ کا) وعدہ تھا جسے [٦] پورا ہونا ہی تھا۔

تسہیل البیان فی تفسیر القرآن - ام عمران شکیلہ بنت میاں فضل حسین

یعنی جب تم نے اچھے کام کیے تو ہم نے تمھیں غلبہ دیا، مال و دولت، بیٹوں اور جاہ و حشمت سے نواز جب کہ یہ ساری چیزیں تم سے چھن چکی تھیں اور تمھیں پھر زیادہ جتھے والا اور طاقتور بنا دیا۔ پھر فرمایا کہ نیکی کرنے والا دراصل اپنے لیے ہی بھلا کرتا ہے، اور برائی کرنے والا حقیقت میں اپنا ہی برا کرتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَيْهَا﴾ (حم السجدۃ: ۴۶) ’’شخص نیک کام کرے وہ اس کے اپنے لیے ہے۔ اور جو برائی کرے اس کا بوجھ بھی اسی پر ہے۔‘‘