سورة النسآء - آیت 163

إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَىٰ نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِن بَعْدِهِ ۚ وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَعِيسَىٰ وَأَيُّوبَ وَيُونُسَ وَهَارُونَ وَسُلَيْمَانَ ۚ وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورًا

ترجمہ تیسیرالقرآن - مولانا عبد الرحمن کیلانی

(اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) !) ہم نے آپ کی طرف اسی طرح وحی کی ہے۔[٢١٦] جیسے نوح اور انکے بعد آنے والے انبیاء کی طرف کی تھی۔ نیز ہم نے ابراہیم، اسمٰعیل، اسحق، یعقوب، اس کی اولاد، عیسیٰ، ایوب، یونس، ہارون، اور سلیمان کی طرف وحی کی اور داؤد، کو [٢١٧] زبور عطا کی تھی

تفسیرسراج البیان - محممد حنیف ندوی

(ف1) یعنی نفس نبوت اور مقام صداقت میں کوئی فرق نہیں حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت مسیح (علیہ السلام) تک اور حضرت مسیح (علیہ السلام) سے لے کر حضور (ﷺ) تک سب نے ایک ہی منزل کی طرف لوگوں کو دعوت دی ہے ، پس وہ لوگ جو انصاف پسند ہیں ، انبیاء علیہم السلام ومذاہب کے نام پر انسانیت کو تقسیم نہیں کرتے ، بلکہ کوشش کرتے ہیں کہ سلسلہ حق وصداقت کی تمام کڑیوں کو مشترکہ مانا جائے ۔ حل لغات: أَوْحَيْنَا: وحی کے معنی اشارہ خفیہ کے ہیں ۔ اصطلاح قرآن میں چپکے سے کوئی بات دل میں ڈال دینا مراد ہے ۔ زَبُور: مطلقا کتاب کو کہتے ہیں ۔