سورة الفرقان - آیت 55

وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنفَعُهُمْ وَلَا يَضُرُّهُمْ ۗ وَكَانَ الْكَافِرُ عَلَىٰ رَبِّهِ ظَهِيرًا

ترجمہ تیسیرالقرآن - مولانا عبد الرحمن کیلانی

یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کو پوجتے ہیں جو نہ انھیں کچھ فائدہ پہنچا سکتی ہیں اور نہ نقصان۔ اور کافر اپنے پروردگار کے مقابلہ پر (باغی کا) مددگار [٦٨] بنا ہوا ہے۔

تفسیرسراج البیان - محممد حنیف ندوی

شرک اللہ کا کھلا انکار ہے ! (ف 1) اللہ کے مختلف انعامات آپ دیکھ چکے اور آپ کو معلوم ہوگیا کہ ہر قسم اور ہر نوع کی قدرتیں اس کے ساتھ مختص ہیں وہی کائنات کا مالک ہے اور اسی کی ذات بابرکات کو ہر طرح کے اختیارات حاصل ہیں ۔ مگر مشرکوں کی بےوقوفی اور کم عقلی ملاحظہ ہو کہ باوجود ایک قادر و عظیم خدا کے یہ ایسی چیزوں کی پوجا اور عبادت میں مصروف ہیں ۔ جو ان کو نہ تو کوئی نفع پہنچا سکتی ہیں اور نہ نقصان ۔ ارشاد ہے کہ یہ شرک اللہ تعالیٰ کا کھلا انکار ہے اور کھلی بغاوت ہے۔ حل لغات: ظَهِيرًا ۔ اصل معنی مددگار اور معاون کے ہیں ۔ مگر جب صلہ علی ہو تو اس کے معنی مخالف اور دشمن کے ہوجاتے ہیں ۔