سورة طه - آیت 70

فَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ هَارُونَ وَمُوسَىٰ

ترجمہ تیسیرالقرآن - مولانا عبد الرحمن کیلانی

چنانچہ (یہ منظر دیکھ کر) جادوگر بے ساختہ سجدہ میں گر پڑے۔ کہنے لگے'': ہم ہارون اور موسیٰ کے پروردگار پر ایمان [٤٩] لے آئے''

تفسیرسراج البیان - محممد حنیف ندوی

(ف2) جادوگروں نے اپنی فریب کاریوں کے مقابلہ میں جب حقیقت کی جلوہ گری دیکھی ، تو چونکہ صاحب بصیرت تھے ، فورا اللہ کے سامنے جھک گئے اور بےاختیار پکار اٹھے ، کہ ہم رب موسیٰ (علیہ السلام) وہارون (علیہ السلام) کو جانتے ہیں ، اس کی قدرتیں بےپناہ اور عظیم ہیں ، فرعون نے جب یہ منظر آنکھوں سے دیکھا تو بےتاب ہوگیا ، اور حاکمانہ انداز میں دھمکیاں دینے لگا جادوگروں کے دل میں چونکہ ایمان کی قوت راسخ ہوچکی تھی اس لئے وہ بےخوف ہوگئے ، اور جرات کے ساتھ فرعون سے کہہ دیا کہ جو کچھ کرنا چاہتے ہو کر گزرو ، ہم ان دھمکیوں سے خائف نہیں جن کا تعلق محض اس دنیا سے ہے، ہمارے دل حق کی روشنی سے منور ہوچکے ہیں اور ان میں غیر اللہ کے خوف وہراس کے لئے کوئی جگہ نہیں ۔