سورة الاعراف - آیت 93

فَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ ۖ فَكَيْفَ آسَىٰ عَلَىٰ قَوْمٍ كَافِرِينَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

شعیب انہیں یہ کہتے ہوئے وہاں سے چلا گیا کہ '': اے میری قوم ! میں نے تمہیں اپنے پروردگار کا پیغام پہنچا دیا تھا اور (ممکن حد تک) میں تمہاری خیر خواہی کرتا رہا۔ تو اب میں ان لوگوں پر کیسے افسوس [٩٩] کروں جو انکار ہی کرتے رہے''

تفسیر سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

(ف ١) آیات کا مقصد یہ ہے کہ رسول تباہی کی درخواست اس وقت اللہ سے کرتا ہے جبکہ پیمانہ صبر لبریز ہوجائے اور جب پوری مایوسی ہو ، جب وہ تمام احکام تم تک پہنچا چکا ہوں ، ساری باتیں سنا چکا ہوں ، اب بھی اگر تم نہ مانو ، تجھے تمہارے مٹ جانے پر قطعا افسوس نہیں ۔ انبیاء علیہم السلام بدرجہ غایت شفیق اور مہربان ہوتے ہیں ، آخرت تک ہوش میں ہوتے ، اور جاگتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح قوم میں اصلاح ہو اور دقت سے بچ جانے ، مگر جب قلب وجگر پر مردنی چھا جائے غفلت وجہالت آنکھوں کی بینائی ضائع کر دے ، تو پھر مہربانی کی کیونکہ توقع کی جا سکتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ بھی نہیں چاہتے ، کہ اس کے پیارے بندے ایک دم زندگی سے محروم ہوجائیں ، اور نافرمانوں میں شمار ہوں ، اس لئے وہ رسولوں کے علاوہ مصیبتیں بھیجتا ہے ، مشکلات میں مبتلا کرتا ہے ، تاکہ دل پسیجیں ، متاثر ہوں ، اور طبیعتوں میں گداز پیدا ہو ، اور جب یہ ذرائع ناکام رہیں ، اور امید کی کوئی کرن باقی نہ رہے ، تو پھر ہلاکت کے سوا اور کیا چارہ ہے ۔ حل لغات : کان لم یغنوا فیھا : غنی کے معنی مدت تک کہیں رہنے کے ہیں ، مغنی کے معنی منزل اور مقام اور انسانی جائے معیشت کے ہیں ۔